(آیت 22) ➊ { وَمَاۤاَنْتُمْبِمُعْجِزِيْنَفِيالْاَرْضِوَلَافِيالسَّمَآءِ:} یہاں یہ سوال ہو سکتا تھا کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے قابو ہی نہ آیا تو وہ اسے اپنے پاس کیسے حاضر کرے گا؟ لہٰذا فرمایا، تم زمین کے کسی کونے میں چلے جاؤ یا آسمان کے کسی کنارے پر، تم اللہ تعالیٰ کو ہرگز عاجز نہیں کر سکتے کہ وہ تمھیں پکڑ نہ سکے۔ سورۂ رحمن میں یہی بات فرمائی: «{ يٰمَعْشَرَالْجِنِّوَالْاِنْسِاِنِاسْتَطَعْتُمْاَنْتَنْفُذُوْامِنْاَقْطَارِالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِفَانْفُذُوْالَاتَنْفُذُوْنَاِلَّابِسُلْطٰنٍ }»[الرحمٰن: ۳۳]”اے جنّ و اِنس کی جماعت! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ، کسی غلبے کے سوا نہیں نکلو گے۔“ ➋ { وَمَالَكُمْمِّنْدُوْنِاللّٰهِمِنْوَّلِيٍّوَّلَانَصِيْرٍ:} مطلب یہ ہے کہ نہ تم خود اتنے زور آور ہو کہ کہیں بھاگ کر اللہ کی گرفت سے نکل سکو اور نہ تمھارے کوئی حمایتی یا مددگار ہیں جو تمھیں اس کی گرفت سے بچا سکیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ تم اسے نہ زمین میں عاجز کر سکتے ہو اور نہ آسمان میں اور نہ ہی اللہ کے سوا تمہارا کوئی حامی یا مددگار [34] ہو سکتا ہے
[34] یعنی نہ تم میں اتنا زور ہے کہ زمین کی حدود سے باہر نکل جاؤ اور نہ اتنی طاقت ہے کہ آسمانوں تک پہنچ جاؤ۔ یہ غالباً اس لئے فرمایا کہ انسان اس زمین کے علاوہ کسی دوسری جگہ زندہ رہ ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کی تمام غذائی اور جسمانی ضروریات اس زمین سے وابستہ ہیں الا یہ کہ چند دنوں کے لئے کوئی عارضی سا بندوبست کر لے اور جب اللہ کی گرفت آجائے تو نہ تم میں اتنا زور ہے کہ اس کی گرفت سے بچ سکو اور نہ کوئی دوسری ہستی اتنی طاقتور ہے کہ وہ اس کے عذاب سے تمہیں پناہ دے سکے یا اس کے عذاب کو روک سکے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَمَاۤاَنْتُمْبِمُعْجِزِیْنَفِیالْاَرْضِوَلَافِیالسَّمَآءِ﴾” اور تم اس کو زمین میں عاجز کرسکتے ہو نہ آسمان میں۔“ یعنی اے جھٹلانے والے لوگو جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتے ہو! یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ تم سے غافل ہے یا تم زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کو عاجز کر سکو گے۔ تمھاری قدرت واختیار تمھیں دھوکے میں نہ ڈالے۔ تمھارے نفس نے جن امور کو مزین کر کے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات کے بارے میں تمھیں فریب میں مبتلا کر رکھا ہے، وہ تمھیں دھوکے میں نہ رکھیں۔ کائنات کے تمام گوشوں میں تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہ کر سکو گے ﴿ وَمَالَكُمْمِّنْدُوْنِاللّٰهِمِنْوَّلِیٍّ ﴾”اور نہ اللہ کے سوا تمھارا کوئی دوست ہے۔“ جو تمھاری سرپرستی کرے اور تمھیں تمھارے دینی اور دنیاوی مصالح حاصل ہوں۔ ﴿ وَّلَانَصِیْرٍ ﴾”اور نہ کوئی مددگار“ جو تمھاری مدد کرے اور تمھاری تکالیف کو دور کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وما أنتم بِمُعْجِزينَ في الأرض ولا في السماء}؛ أي: يا هؤلاء المكذِّبون المتجرِّؤون على المعاصي! لا تحسبوا أنه مغفولٌ عنكم أو أنكم معجزون لله في الأرض ولا في السماء؛ فلا تَغُرَّنَّكم قدرتُكم وما زينتْ لكم أنفسكم وخدعتْكم من النجاة من عذاب الله، فلستُم بمعجزينَ الله في جميع أقطار العالم، {وما لكُم من دونِ الله من وليٍّ}: يتولاَّكم فيحصِّلَ لكم مصالح دينكم ودنياكم. {ولا نصيرٍ}: ينصُرُكم فيدفع عنكم المكارِهَ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔