وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ لِقَآئِہٖۤ اُولٰٓئِکَ یَئِسُوۡا مِنۡ رَّحۡمَتِیۡ وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۳﴾
اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا وہ میری رحمت سے ناامید ہو چکے اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔
En
اور جن لوگوں نے خدا کی آیتوں سے اور اس کے ملنے سے انکار کیا وہ میری رحمت سے نااُمید ہوگئے ہیں اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا
En
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھلاتے ہیں وه میری رحمت سے ناامید ہو جائیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 23) {وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآىِٕهٖۤ …:} اللہ تعالیٰ کی رحمت دنیا میں عام ہے، جس سے کافر اور مومن، منافق اور مخلص، نیک اور بد یکساں طور پر مستفید ہو رہے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کو دنیا کے وسائل، آسائش اور مال و دولت عطا کر رہا ہے۔ یہ رحمت الٰہی کی وہ وسعت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا: «{ وَ رَحْمَتِيْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ }» [الأعراف: ۱۵۶] ”اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے۔“ لیکن آخرت چونکہ دار الجزاء ہے۔ انسان نے دنیا کی کھیتی میں جو کچھ بویا ہو گا اسی کی فصل اسے وہاں کاٹنا ہو گی، جیسے عمل کیے ہوں گے ویسی ہی جزا اسے وہاں ملے گی۔ اللہ کی بارگاہ میں بے لاگ فیصلے ہوں گے۔ دنیا کی طرح اگر آخرت میں بھی نیک و بد کے ساتھ یکساں سلوک ہو اور مومن و کافر دونوں ہی رحمت الٰہی کے مستحق قرار پائیں تو اس سے ایک تو اللہ تعالیٰ کی صفت عدل پر حرف آتا ہے اور دوسرے قیامت کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ قیامت کا دن تو اللہ نے رکھا ہی اس لیے ہے کہ وہاں نیکوں کو ان کی نیکیوں کے صلے میں جنت اور بدوں کو ان کی بدیوں کی جزا میں جہنم دی جائے۔ اس لیے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف اہل ایمان کے لیے خاص ہو گی۔ جیسے یہاں بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ آخرت اور معاد کے منکر ہوں گے وہ میری رحمت سے ناامید ہوں گے، یعنی ان کے حصے میں رحمتِ الٰہی نہیں آئے گی۔ سورۂ اعراف میں اس بات کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: «{ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَ يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ }» [الأعراف: ۱۵۶] ”سو میں یہ (رحمت آخرت میں) ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو متقی، زکاۃ ادا کرنے والے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہوں گے۔“ (احسن البیان) اس سورت کی آیت (۵): «{ مَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ }» میں اللہ کی رحمت کی امید رکھنے والوں کا بیان ہے اور زیر تفسیر آیت میں اللہ کی رحمت سے ناامید لوگوں کا بیان ہے۔ نیز دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
23-1اللہ تعالیٰ کی رحمت، دنیا میں عام ہے جس سے کافر اور مومن، منافق اور مخلص اور نیک اور بد سب یکساں طور پر مستفید ہو رہے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو دنیا کے وسائل، آسائش اور مال و دولت عطا کر رہا ہے یہ رحمت الٰہی کی وہ وسعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا ' میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے ' لیکن آخر میں چونکہ دارالجزاء ہے، انسان نے دنیا کی کھیتی میں جو کچھ بویا ہوگا اسی کی فصل اسے وہاں کاٹنی ہوگی، جیسے عمل کئے ہونگے اس کی جزاء اسے وہاں ملے گی۔ اللہ کی بارگاہ میں بےلاگ فیصلے ہوں گے۔ دنیا کی طرح اگر آخرت میں بھی نیک وبد کے ساتھ یکساں سلوک ہو اور مومن و کافر دونوں ہی رحمت الہی کے مستحق قرار پائیں تو اس سے ایک تو اللہ تعالیٰ کی صفت عدل پر حرف آتا ہے، دوسرے قیامت کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ قیامت کا دن تو اللہ نے رکھا ہی اس لیے ہے کہ وہاں نیکوں کو ان کی نیکیوں کے صلے میں جنت اور بدوں کو انکی بدیوں کی جزا میں جہنم دی جائے۔ اس لیے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف اہل ایمان کے لیے خاص ہوگی۔ جسے یہاں بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ آخرت اور معاد کے ہی منکر ہوں گے وہ میری رحمت سے ناامید ہوں گے یعنی ان کے حصے میں رحمت الہی نہیں آئے گی۔ سورة اعراف میں اس کو ان الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ (فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ) 7۔ الاعراف:156) میں یہ رحمت (آخرت میں) ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو متقی، زکوٰۃ ادا کرنے والے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہوں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا وہ میری رحمت سے مایوس [35] ہو چکے ہیں۔ اور انہی کے لئے دردناک عذاب ہو گا۔
[35] اللہ کی آیات سے انکاری درحقیقت اللہ کی رحمت سے دوری کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یعنی جو لوگ عقیدہ آخرت، اللہ سے ملاقات اور بعث بعد الموت کے منکر ہیں انھیں رحمت الٰہی کی امید کیونکر ہو سکتی ہے جبکہ وہ اس بات کے قائل ہی نہیں۔ لہٰذا وہ آخرت میں اللہ کی رحمت سے محروم اور مایوس ہی رہیں گے پہلے یہ بتلایا جا چکا ہے کہ جو شخص اللہ سے ملاقات کی امید رکھتے ہیں تو انھیں یقین رکھنا چاہئے کہ ان کی موت جلد ہی آنے والی ہے۔ [29: 5] یعنی موت کے فوراً بعد اللہ کی رحمت اسے اپنی آغوش میں لے لے گی۔ یہ دونوں طرح کی آیات ایک دوسری کا عکس ہیں۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن سے بھلائی زائل ہو گئی اور ان کو شر حاصل ہوا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور ان کی لائی ہوئی کتابوں کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو جھٹلایا، ان کے پاس دنیا کے سوا کچھ نہیں اسی لیے انھوں نے شرک اور معاصی کا ارتکاب کیا کیونکہ ان کے دلوں میں کوئی ایسی چیز نہیں جو انھیں ان گناہوں کے انجام سے ڈرائے، اس لیے فرمایا: ﴿ وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَلِقَآىِٕهٖۤ اُولٰٓىِٕكَ یَىِٕسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ ﴾ ” یہ لوگ میری رحمت سے ناامید ہوگئے۔“ یعنی ان کے پاس کوئی ایسا سبب نہ ہو گا جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہرہ ور ہوں ورنہ اگر انھیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید ہوتی تو اس رحمت کے حصول کے لیے عمل کرتے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا بڑے بڑے ممنوعات میں سے ہے اور اس کی دو اقسام ہیں:
1 کفار کا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو کر ان تمام اسباب کو ترک کر دینا جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔
2 گناہ گاروں کا اپنے گناہوں اور جرائم کی کثرت کے سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا جو انھیں وحشت میں مبتلا کر کے ان کے قلوب پر حاوی ہو جاتے ہیں اور یوں ان کے قلوب میں مایوسی جنم لیتی ہے۔
﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴾ ”اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ یعنی تکلیف دہ اور دل دوز گویا کہ یہ آیات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنی قوم کے ساتھ کلام اور ان کی قوم کا آپ کی بات رد کرنے کے درمیان بطور جملۂ معترضہ آئی ہے۔ واللہ اعلم۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى من هم الذين زال عنهم الخيرُ وحَصَلَ لهم الشرُّ، وأنَّهم الذين كفروا به وبرسله وبما جاؤوهم به، وكذَّبوا بلقاء الله، فليس عندهم إلاَّ الدُّنيا؛ فلذلك أقدموا على ما أقدموا عليه من الشرك والمعاصي؛ لأنه ليس في قلوبهم ما يخوِّفهم من عاقبة ذلك، ولهذا قال: {أولئك يَئِسوا من رحمتي}؛ أي: فلذلك لم يعملوا سبباً واحداً يُحَصِّلونَ به الرحمةَ، وإلاَّ؛ فلو طمعوا في رحمته؛ لعملوا لذلك أعمالاً.
والإياس من رحمة الله من أعظم المحاذير، وهو نوعان: إياسُ الكفَّار منها وتركُهم جميع سبب يقرِّبُهم منها. وإياسُ العصاة بسبب كثرةِ جناياتهم أوْحَشَتْهم فمَلَكَتْ قلوبَهم، فأحدث لها الإياس. {وأولئك لهم عذابٌ أليمٌ}؛ أي: مؤلم موجع.
وكأن هذه الآياتِ معترضاتٌ بين كلام إبراهيم لقومه وردِّهم عليه، والله أعلمُ بذلك.