(آیت 21) {يُعَذِّبُمَنْيَّشَآءُوَيَرْحَمُمَنْيَّشَآءُ …:} قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کے دلائل کے بعد فرمایا کہ پھر وہ جسے چاہے گا اپنے عدل کے ساتھ عذاب دے گا اور جس پر چاہے گا اپنے فضل کے ساتھ رحم فرمائے گا، البتہ ہرحال میں تمھیں واپس اس کے پاس جانا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
21-1یعنی وہی اصل حاکم اور متصرف ہے، اس سے کوئی پوچھ نہیں سکتا تاہم اس کا عذاب یا رحمت، یوں ہی نہیں ہوگی بلکہ اصولوں کے مطابق ہوگی جو اس نے اس کے لئے طے کر رکھے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
21۔ وہ جسے چاہے سزا دے اور جس پر چاہے رحم کرے [33] اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
[33] روز آخرت اور انسان کے دوبارہ پیدا ہونے پر دلائل دینے کے بعد فرمایا کہ تم بہرحال اللہ کے سامنے پیش کئے جاؤ گے۔ ایسی کوئی صورت ممکن نہیں کہ تم اس حاضری سے بچ سکو۔ پھر وہ تمہارے اعمال کے مطابق تمہیں سزا دے گا۔ اور کسی کے حق میں اس کی حکمت کا یہ تقاضا ہو کہ اس پر رحم کیا جائے تو وہ اسے اپنی رحمت کی بنا پر معاف بھی کر سکتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ یُعَذِّبُمَنْیَّشَآءُوَیَرْحَمُمَنْیَّشَآءُ﴾”وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے۔“ یعنی حکم جزائی میں وہ متفرد ہے، یعنی وہ اکیلا ہے جو اطاعت کرنے والوں کو ثواب عطا کرتا ہے انھیں اپنی وسیع رحمت کے سائے میں لیتا ہے اور نافرمانوں کو عذاب دیتا ہے۔ ﴿ وَاِلَیْهِتُقْلَبُوْنَ﴾”اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔“ یعنی تم اس گھر کی طرف لوٹو گے جہاں تم پر اس کے عذاب یا رحمت کے احکام جاری ہوں گے، اس لیے اس دنیا میں نیکیوں کا اکتساب کر لو جو اس کی رحمت کا سبب ہیں اور اس کی نافرمانیوں سے دور رہو جو اس کے عذاب کا باعث ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يعذِّبُ من يشاء ويرحمُ من يشاء}؛ أي: هو المنفرد بالحكم الجزائي، وهو إثابةُ الطائعين ورحمتهم، وتعذيبُ العاصين والتنكيل بهم، {وإليه تُقْلَبونَ}؛ أي: ترجِعونَ إلى الدار التي بها تجري عليكم أحكام عذابِهِ ورحمتِهِ، فاكتسبوا في هذه الدار ما هو من أسباب رحمتِهِ من الطاعات، وابتعدوا من أسباب عذابِهِ وهو المعاصي.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔