تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 22

وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ۫ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿٪۲۲﴾
اور نہ تم کسی طرح زمین میں عاجز کرنے والے ہو اور نہ آسمان میں اور نہ اللہ کے سوا تمھارا کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔ En
اور تم (اُس کو) نہ زمین میں عاجز کرسکتے ہو نہ آسمان میں اور نہ خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار
En
تم نہ تو زمین میں اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکتے ہو نہ آسمان میں، اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی والی ہے نہ مددگار En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ اور تم اس کو زمین میں عاجز کرسکتے ہو نہ آسمان میں۔ یعنی اے جھٹلانے والے لوگو جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتے ہو! یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ تم سے غافل ہے یا تم زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کو عاجز کر سکو گے۔ تمھاری قدرت واختیار تمھیں دھوکے میں نہ ڈالے۔ تمھارے نفس نے جن امور کو مزین کر کے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات کے بارے میں تمھیں فریب میں مبتلا کر رکھا ہے، وہ تمھیں دھوکے میں نہ رکھیں۔ کائنات کے تمام گوشوں میں تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہ کر سکو گے ﴿ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ اور نہ اللہ کے سوا تمھارا کوئی دوست ہے۔ جو تمھاری سرپرستی کرے اور تمھیں تمھارے دینی اور دنیاوی مصالح حاصل ہوں۔ ﴿ وَّلَا نَصِیْرٍ اور نہ کوئی مددگار جو تمھاری مدد کرے اور تمھاری تکالیف کو دور کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما أنتم بِمُعْجِزينَ في الأرض ولا في السماء}؛ أي: يا هؤلاء المكذِّبون المتجرِّؤون على المعاصي! لا تحسبوا أنه مغفولٌ عنكم أو أنكم معجزون لله في الأرض ولا في السماء؛ فلا تَغُرَّنَّكم قدرتُكم وما زينتْ لكم أنفسكم وخدعتْكم من النجاة من عذاب الله، فلستُم بمعجزينَ الله في جميع أقطار العالم، {وما لكُم من دونِ الله من وليٍّ}: يتولاَّكم فيحصِّلَ لكم مصالح دينكم ودنياكم. {ولا نصيرٍ}: ينصُرُكم فيدفع عنكم المكارِهَ.