ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 22

وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ۫ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿٪۲۲﴾
اور نہ تم کسی طرح زمین میں عاجز کرنے والے ہو اور نہ آسمان میں اور نہ اللہ کے سوا تمھارا کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔ En
اور تم (اُس کو) نہ زمین میں عاجز کرسکتے ہو نہ آسمان میں اور نہ خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار
En
تم نہ تو زمین میں اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکتے ہو نہ آسمان میں، اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی والی ہے نہ مددگار En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 22) ➊ { وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ وَ لَا فِي السَّمَآءِ:} یہاں یہ سوال ہو سکتا تھا کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے قابو ہی نہ آیا تو وہ اسے اپنے پاس کیسے حاضر کرے گا؟ لہٰذا فرمایا، تم زمین کے کسی کونے میں چلے جاؤ یا آسمان کے کسی کنارے پر، تم اللہ تعالیٰ کو ہرگز عاجز نہیں کر سکتے کہ وہ تمھیں پکڑ نہ سکے۔ سورۂ رحمن میں یہی بات فرمائی: «{ يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ [الرحمٰن: ۳۳] اے جنّ و اِنس کی جماعت! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ، کسی غلبے کے سوا نہیں نکلو گے۔
➋ { وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا نَصِيْرٍ:} مطلب یہ ہے کہ نہ تم خود اتنے زور آور ہو کہ کہیں بھاگ کر اللہ کی گرفت سے نکل سکو اور نہ تمھارے کوئی حمایتی یا مددگار ہیں جو تمھیں اس کی گرفت سے بچا سکیں۔