22۔ تم اسے نہ زمین میں عاجز کر سکتے ہو اور نہ آسمان میں اور نہ ہی اللہ کے سوا تمہارا کوئی حامی یا مددگار [34] ہو سکتا ہے
[34] یعنی نہ تم میں اتنا زور ہے کہ زمین کی حدود سے باہر نکل جاؤ اور نہ اتنی طاقت ہے کہ آسمانوں تک پہنچ جاؤ۔ یہ غالباً اس لئے فرمایا کہ انسان اس زمین کے علاوہ کسی دوسری جگہ زندہ رہ ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کی تمام غذائی اور جسمانی ضروریات اس زمین سے وابستہ ہیں الا یہ کہ چند دنوں کے لئے کوئی عارضی سا بندوبست کر لے اور جب اللہ کی گرفت آجائے تو نہ تم میں اتنا زور ہے کہ اس کی گرفت سے بچ سکو اور نہ کوئی دوسری ہستی اتنی طاقتور ہے کہ وہ اس کے عذاب سے تمہیں پناہ دے سکے یا اس کے عذاب کو روک سکے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔