کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے کہا: ”جو وراثت کا حق دار بنا، وہی ولاء کا حق دار بنے گا“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رِئَابَ بْنَ حُذَيْفَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَوَلَدَتْ لَهُ ثَلَاثَةَ أَغْلِمَةٍ، فَمَاتَتْ أُمُّهُمْ، فَوَرِثُوا رِبَاعَهَا وَوَلَاءَ مَوَالِيهَا، وَكَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَصَبَةَ بَنِيهَا، فَأَخْرَجَهُمْ إِلَى الشَّامِ، فَمَاتُوا، فَقَدِمَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، وَمَاتَ مَوْلًى لَهَا، وَتَرَكَ مَالًا، فَخَاصَمَهُ إِخْوَتُهَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ أَوِ الْوَالِدُ فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ "، قَالَ: فَكَتَبْتُ لَهُ كِتَابًا فِيهِ شَهَادَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَرَجُلٍ آخَرَ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عَبْدُ الْمَلِكِ اخْتَصَمُوا إِلَى هِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ أَوْ إِلَى إِسْمَاعِيلَ بْنِ هِشَامٍ، فَرَفَعَهُمْ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ، فَقَالَ: هَذَا مِنَ الْقَضَاءِ الَّذِي مَا كُنْتُ أَرَاهُ، قَالَ: فَقَضَى لَنَا بِكِتَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَنَحْنُ فِيهِ إِلَى السَّاعَةِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَقَدْ رُوِّينَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَإِنَّهُمَا قَالَا: " الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ ". وَمُرْسَلُ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ⦗٥١٣⦘ وَأَمَّا الْحَدِيثُ الْمَرْفُوعُ فِيهِ، فَلَيْسَ فِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ فِي الْوَلَاءِ..
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رئاب بن حذیفہ نے ایک عورت سے شادی کی۔ اس کے ہاں تین بچے پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ فوت ہو گئی، وہ (تینوں) اس کے گھروں اور اس کے غلاموں کی ولاء کے وارث ہوئے اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اس کے بیٹوں کے عصبہ تھے۔ وہ ان کو شام لے کر گئے جہاں وہ فوت ہو گئے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ آئے تو اس عورت کا غلام بھی فوت ہو گیا۔ اس نے مال چھوڑا۔ اس کے بھائی جھگڑا لے کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بچہ یا باپ مال محفوظ رکھے، وہ اس کے عصبات کے لیے ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ایک خط لکھا جس میں عبدالرحمن بن عوف اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما اور ایک دوسرے آدمی کی شہادت تھی۔ جب عبدالملک خلیفہ بنا تو انہوں نے اپنا کیس ہشام بن اسماعیل یا اسماعیل بن ہشام کے سامنے رکھا تو وہ کیس عبدالملک کے پاس لے گئے۔ کہنے لگے: یہ ایسا فیصلہ ہے جو میری رائے میں نہ تھا، کہتے ہیں: انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خط کے مطابق فیصلہ فرمایا اور آج تک ہم بھی اس پر ہیں۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت میں اسی طرح ہے، جبکہ ہم نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما دونوں نے فرمایا: ولاء بڑے کے لیے ہے۔ اور ابن مسیب کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت عمرو بن شعیب کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، اور جہاں تک اس بارے میں مرفوع حدیث کا تعلق ہے تو اس میں یہ نہیں کہ نبی ﷺ نے یہ بات ولاء کے بارے میں فرمائی۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت میں اسی طرح ہے، جبکہ ہم نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما دونوں نے فرمایا: ولاء بڑے کے لیے ہے۔ اور ابن مسیب کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت عمرو بن شعیب کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، اور جہاں تک اس بارے میں مرفوع حدیث کا تعلق ہے تو اس میں یہ نہیں کہ نبی ﷺ نے یہ بات ولاء کے بارے میں فرمائی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشَرِيكٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " الْوَلَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ النَّسَبِ، فَمَنْ أَحْرَزَ الْمِيرَاثَ فَقَدْ أَحْرَزَ الْوَلَاءَ ". كَذَا وَجَدْتُهُ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَهُوَ خَطَأٌ، وَكَأَنَّ يَزِيدَ حَمَلَ رِوَايَةَ الثَّوْرِيِّ عَلَى رِوَايَةِ شَرِيكٍ، وَشَرِيكٌ وَهِمَ فِيهِ، أَوْ وَهِمَ فِيهِ يَزِيدُ، فَمَنْ دُونَهُ..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ فرماتے ہیں کہ ولاء نسب کی شاخ ہی ہے، جس نے میراث کو محفوظ کرلیا اس نے ولاء کو بھی محفوظ کرلیا۔
میں نے اس روایت میں اسی طرح پایا ہے، اور یہ غلطی ہے۔ گویا یزید نے ثوری کی روایت کو شریک کی روایت پر محمول کر دیا، اور اس میں شریک کو وہم ہوا، یا یزید یا اس سے نیچے کسی راوی کو وہم ہوا۔
میں نے اس روایت میں اسی طرح پایا ہے، اور یہ غلطی ہے۔ گویا یزید نے ثوری کی روایت کو شریک کی روایت پر محمول کر دیا، اور اس میں شریک کو وہم ہوا، یا یزید یا اس سے نیچے کسی راوی کو وہم ہوا۔
وَإِنَّمَا لَفْظُ الْحَدِيثِ كَمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، وَقَبِيصَةُ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ رِيَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " الْوَلَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الرِّقِّ، مَنْ أَحْرَزَ الْوَلَاءَ أَحْرَزَ الْمِيرَاثَ ". هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مِسْعَرٌ، عَنْ عِمْرَانَ، وَإِنَّمَا مَعْنَاهُ: مَنْ كَانَ لَهُ الْوَلَاءُ كَانَ لَهُ الْمِيرَاثُ بِالْوَلَاءِ..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ولاء غلامی کی ایک شاخ ہے، جس نے ولاء کی حفاظت کی اس نے میراث کی بھی حفاظت۔“
یہی صحیح ہے، اور مسعر نے بھی عمران سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اس کا معنی یہ ہے کہ جس کے لیے ولاء ہو، ولاء کی بنا پر میراث بھی اسی کی ہوگی۔
یہی صحیح ہے، اور مسعر نے بھی عمران سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اس کا معنی یہ ہے کہ جس کے لیے ولاء ہو، ولاء کی بنا پر میراث بھی اسی کی ہوگی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " يَحُوزُ الْوَلَاءَ الَّذِي يَحُوزُ الْمِيرَاثَ ". وَهَذَا يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ أَنَّ الَّذِي يَحُوزُ الْمِيرَاثَ وَهُوَ الْعَصَبَةُ الَّذِي يَأْخُذُ جَمِيعَ الْمِيرَاثِ، هُوَ الَّذِي يَأْخُذُ بِالْوَلَاءِ دُونَ أَصْحَابِ الْفُرُوضِ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ولاء کو وہی شخص اکٹھا کرتا ہے جو میراث کو جمع کرتا ہے۔
«يَحُوزُ الْمِيرَاثَ» سے مراد وہ عصبہ ہے جو اصحاب الفروض کے بعد سارا مال لے جاتے ہیں۔
«يَحُوزُ الْمِيرَاثَ» سے مراد وہ عصبہ ہے جو اصحاب الفروض کے بعد سارا مال لے جاتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: خَاصَمَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي مِيرَاثِ مَوْلًى لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَضَى بِمِيرَاثِهِ لِابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ. عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخُو عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ⦗٥١٤⦘ لِأُمِّهَا وَأَبِيهَا، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَخُوهَا لِأَبِيهَا دُونَ أُمِّهَا، فَقَضَى بِهِ لِابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لِأَنَّ عَبْدَ اللهِ مَاتَ بَعْدَ عَائِشَةَ، فَأَحْرَزَ ابْنُهُ مَا كَانَ أَحْرَزَ أَبُوهُ مِنَ الْوَلَاءِ. . وَمَنْ قَالَ: الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ جَعَلَهُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ. وَقَدْ رُوِيَ، عَنِ الْقَاسِمِ أَنَّهُ أَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ..
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر کے بیٹے نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام کی وراثت کے بارے میں جھگڑا کیا، تو ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے فیصلہ عبداللہ بن عبدالرحمن کے بیٹے کے حق میں کر دیا۔ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حقیقی بھائی تھے اور محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ باپ کی جانب سے بھائی تھے، ماں کی طرف سے نہیں، تو فیصلہ عبداللہ بن عبدالرحمن کے بیٹے کے لیے ہوا۔ اس لیے کہ عبداللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بعد فوت ہوئے تو اس کے بیٹے نے محفوظ رکھا جو اس کے باپ نے ولاء سے محفوظ رکھا تھا۔ جس نے کہا کہ ولاء بڑے کے لیے ہے تو اس نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ کے لیے مقرر کی۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے اس فیصلے کو رد کر دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَنَّهُ حَضَرَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَطَلْحَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُمَا يَخْتَصِمَانِ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي مِيرَاثِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ وَارِثَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا دُونَ الْقَاسِمِ، لِأَنَّ أَبَاهُ كَانَ أَخَاهَا لِأَبِيهَا وَأُمِّهَا، وَكَانَ مُحَمَّدٌ أَخَاهَا لِأَبِيهَا، ثُمَّ تُوُفِّيَ عَبْدُ اللهِ فَوَرِثَهُ ابْنُهُ طَلْحَةُ، ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو عَمْرٍو، فَقَضَى بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لِطَلْحَةَ قَالَ: فَسَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: " سُبْحَانَ اللهِ، إِنَّ الْمَوْلَى لَيْسَ بِمَالٍ مَوْضُوعٍ يَرِثُهُ مَنْ وَرِثَهُ، إِنَّمَا الْمَوْلَى عَصَبَةٌ " وَرَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ تَوْرِيثَ ابْنِ الزُّبَيْرِ ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ دُونَ الْقَاسِمِ. قَالَ عَطَاءٌ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ رَحِمَهُمُ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن زید بن مہاجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاسم بن محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ اور طلحہ بن عبداللہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ دونوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ابو عمرو کی میراث کا جھگڑا لے کر ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور عبداللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا وارث تھا، قاسم نہیں؛ کیونکہ عبداللہ کے والد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حقیقی بھائی تھے، جبکہ (قاسم کے والد) محمد صرف باپ کی جانب سے بھائی تھے۔ عبداللہ فوت ہوئے تو ان کا وارث طلحہ بنا۔ پھر ابو عمرو فوت ہو گیا تو ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے فیصلہ طلحہ کے حق میں کر دیا، کہتے ہیں: میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہنے لگے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» ”اللہ پاک ہے!“ آزاد کردہ غلام کوئی رکھا ہوا مال نہیں کہ جو بھی وارث بنے وہ اس کا وارث ہو جائے، آزاد کردہ غلام (کی ولاء) تو صرف عصبہ کے لیے ہے۔
(ب) عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما پر اس کا عیب لگاتے تھے۔
(ب) عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما پر اس کا عیب لگاتے تھے۔