❮
❯
حدیث نمبر: 21502
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رِئَابَ بْنَ حُذَيْفَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَوَلَدَتْ لَهُ ثَلَاثَةَ أَغْلِمَةٍ، فَمَاتَتْ أُمُّهُمْ، فَوَرِثُوا رِبَاعَهَا وَوَلَاءَ مَوَالِيهَا، وَكَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَصَبَةَ بَنِيهَا، فَأَخْرَجَهُمْ إِلَى الشَّامِ، فَمَاتُوا، فَقَدِمَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، وَمَاتَ مَوْلًى لَهَا، وَتَرَكَ مَالًا، فَخَاصَمَهُ إِخْوَتُهَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ أَوِ الْوَالِدُ فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ "، قَالَ: فَكَتَبْتُ لَهُ كِتَابًا فِيهِ شَهَادَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَرَجُلٍ آخَرَ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عَبْدُ الْمَلِكِ اخْتَصَمُوا إِلَى هِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ أَوْ إِلَى إِسْمَاعِيلَ بْنِ هِشَامٍ، فَرَفَعَهُمْ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ، فَقَالَ: هَذَا مِنَ الْقَضَاءِ الَّذِي مَا كُنْتُ أَرَاهُ، قَالَ: فَقَضَى لَنَا بِكِتَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَنَحْنُ فِيهِ إِلَى السَّاعَةِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَقَدْ رُوِّينَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَإِنَّهُمَا قَالَا: " الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ ". وَمُرْسَلُ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ⦗٥١٣⦘ وَأَمَّا الْحَدِيثُ الْمَرْفُوعُ فِيهِ، فَلَيْسَ فِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ فِي الْوَلَاءِ..
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رئاب بن حذیفہ نے ایک عورت سے شادی کی۔ اس کے ہاں تین بچے پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ فوت ہو گئی، وہ (تینوں) اس کے گھروں اور اس کے غلاموں کی ولاء کے وارث ہوئے اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اس کے بیٹوں کے عصبہ تھے۔ وہ ان کو شام لے کر گئے جہاں وہ فوت ہو گئے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ آئے تو اس عورت کا غلام بھی فوت ہو گیا۔ اس نے مال چھوڑا۔ اس کے بھائی جھگڑا لے کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بچہ یا باپ مال محفوظ رکھے، وہ اس کے عصبات کے لیے ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ایک خط لکھا جس میں عبدالرحمن بن عوف اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما اور ایک دوسرے آدمی کی شہادت تھی۔ جب عبدالملک خلیفہ بنا تو انہوں نے اپنا کیس ہشام بن اسماعیل یا اسماعیل بن ہشام کے سامنے رکھا تو وہ کیس عبدالملک کے پاس لے گئے۔ کہنے لگے: یہ ایسا فیصلہ ہے جو میری رائے میں نہ تھا، کہتے ہیں: انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خط کے مطابق فیصلہ فرمایا اور آج تک ہم بھی اس پر ہیں۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت میں اسی طرح ہے، جبکہ ہم نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما دونوں نے فرمایا: ولاء بڑے کے لیے ہے۔ اور ابن مسیب کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت عمرو بن شعیب کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، اور جہاں تک اس بارے میں مرفوع حدیث کا تعلق ہے تو اس میں یہ نہیں کہ نبی ﷺ نے یہ بات ولاء کے بارے میں فرمائی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الولاء / حدیث: 21502
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»