السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : من قال: من أحرز الميراث أحرز الولاء. باب: جس نے کہا: ”جو وراثت کا حق دار بنا، وہی ولاء کا حق دار بنے گا“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: خَاصَمَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي مِيرَاثِ مَوْلًى لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَضَى بِمِيرَاثِهِ لِابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ. عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخُو عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ⦗٥١٤⦘ لِأُمِّهَا وَأَبِيهَا، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَخُوهَا لِأَبِيهَا دُونَ أُمِّهَا، فَقَضَى بِهِ لِابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لِأَنَّ عَبْدَ اللهِ مَاتَ بَعْدَ عَائِشَةَ، فَأَحْرَزَ ابْنُهُ مَا كَانَ أَحْرَزَ أَبُوهُ مِنَ الْوَلَاءِ. . وَمَنْ قَالَ: الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ جَعَلَهُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ. وَقَدْ رُوِيَ، عَنِ الْقَاسِمِ أَنَّهُ أَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ..ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر کے بیٹے نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام کی وراثت کے بارے میں جھگڑا کیا، تو ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے فیصلہ عبداللہ بن عبدالرحمن کے حق میں کر دیا۔ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حقیقی بھائی تھے اور محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ باپ کی جانب سے بھائی تھے، ماں کی طرف سے نہیں، تو فیصلہ عبداللہ بن عبدالرحمن کے لیے ہوا۔ اس لیے کہ عبداللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بعد فوت ہوئے تو اس کے بیٹے نے محفوظ رکھا جو اس کے باپ نے ولاء سے محفوظ رکھا تھا۔ جس نے کہا کہ ولاء بڑے کے لیے ہے تو اس نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ کے لیے مقرر کی۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے اس فیصلے کو رد کر دیا۔