کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: آزاد کرنے والے کے عصبہ (رشتہ داروں) میں سے جو سب سے بڑا (اور قریبی) ہو ولاء اسی کا حق ہے، یعنی آزاد کرنے والے کے رشتہ داروں میں سے جو اس کے زیادہ قریب ہو پھر جو اس کے زیادہ قریب ہو، جبکہ آزاد کرنے والا فوت ہو چکا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْعَاصَ بْنَ هِشَامٍ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنِينَ لَهُ ثَلَاثَةً، اثْنَانِ لِأُمٍّ، وَرَجُلٌ لِعِلَّةٍ، فَهَلَكَ أَحَدُ اللَّذَيْنِ لِأُمٍّ، فَتَرَكَ مَالًا وَمَوَالِيَ، فَوَرِثَهُ أَخُوهُ الَّذِي لِأُمِّهِ وَأَبِيهِ مَالَهُ وَوَلَاءَ مَوَالِيهِ، ثُمَّ هَلَكَ الَّذِي وَرِثَ الْمَالَ وَوَلَاءَ الْمَوَالِي، وَتَرَكَ ابْنَهُ وَأَخَاهُ لِأَبِيهِ، فَقَالَ ابْنُهُ: قَدْ أَحْرَزْتُ مَا كَانَ أَبِي أَحْرَزَ مِنَ الْمَالِ وَوَلَاءَ الْمَوَالِي، وَقَالَ أَخُوهُ: لَيْسَ كَذَلِكَ، إِنَّمَا أَحْرَزْتَ الْمَالَ، فَأَمَّا وَلَاءُ الْمَوَالِي فَلَا، أَرَأَيْتَ لَوْ هَلَكَ أَخِي الْيَوْمَ، أَلَسْتُ أَرِثُهُ أَنَا؟ فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَضَى لِأَخِيهِ بِوَلَاءِ الْمَوَالِي..
حافظ ثناء اللہ
عبد الملک بن ابی بکر بن عبد الرحمن بن حارث رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عاص بن ہشام ہلاک ہو گیا اور اس نے تین بیٹے چھوڑے، دو ایک ہی ماں سے تھے اور ایک دوسری ماں سے۔ پھر ان دونوں میں سے ایک ہلاک ہو گیا، اس نے مال اور آزاد کردہ غلام چھوڑے اور اس کا حقیقی بھائی مال اور غلاموں کی «الْوَلَاءُ» کا وارث ہوا۔ پھر وہ شخص بھی ہلاک ہو گیا جو مال اور غلاموں کی «الْوَلَاءُ» کا مالک ہوا تھا۔ اس نے ایک بیٹا اور ایک بھائی چھوڑا۔ اس کے بیٹے نے کہا: میں اس کو محفوظ رکھوں گا جس کو میرے باپ نے محفوظ رکھا تھا۔ اس کے بھائی نے کہا: ایسے نہیں، بلکہ تو صرف مال کو محفوظ کر، لیکن غلاموں کی «الْوَلَاءُ»؛ اگر میرا بھائی ہلاک ہو جائے تو کیا میں اس کا وارث نہ بنوں؟ پھر ان دونوں کا جھگڑا سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے غلامی کی نسبت «الْوَلَاءُ» کا فیصلہ بھائی کے حق میں کر دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: " الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ولاء بڑے کے لیے ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَلِيٌّ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ ذَكَرَ عَبْدَ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُونَ: " الْوَلَاءُ لِلْأَكْبَرِ "، قَالَ: - يَعْنِي: بِالْأَكْبَرِ أَقْرَبَهُمْ بِأَبٍ..
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر، سیدنا علی اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہم، اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر کیا، فرمایا کرتے تھے: ولاء سب سے بڑے کے لیے ہے۔ کہتے ہیں: سب سے بڑے سے مراد وہ ہے جو باپ کے لحاظ سے ان میں سب سے زیادہ قریب ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ سُفْيَانُ ⦗٥١١⦘ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ وَعَبْدُ اللهِ وَزَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمُ: " الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر، سیدنا عبداللہ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ ولاء بڑے کی ہوتی ہے۔
قَالَ: وَأنبأ يَزِيدُ، أنبأ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلِيًّا، وَعَبْدَ اللهِ، وَزَيْدًا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالُوا: " الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ ". وَرُوِيَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللهِ، وَزَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی، عبداللہ اور زید رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ ولاء بڑے کی ہوتی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنِ النَّخَعِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا، وَزَيْدًا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا فِي رَجُلٍ تَرَكَ أَخًا لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ وَأَخًا لِأَبِيهِ، فَجَعَلَا الْوَلَاءَ لِأَخِيهِ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ، فَإِنْ مَاتَ الْأَخُ مِنْ أَبٍ رَجَعَ الْوَلَاءُ إِلَى بَنِي الْأَخِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ ".
حافظ ثناء اللہ
نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ آدمی جس نے حقیقی اور باپ کی جانب سے بھائی کو چھوڑا تو ولاء کا فیصلہ حقیقی بھائی کے لیے کیا جاتا ہے۔ اگر باپ کی جانب سے بھائی فوت ہو جائے تو ولاء حقیقی بھائی کے بیٹوں کی طرف لوٹ جائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا أَعْتَقَتِ الْمَرْأَةُ عَبْدًا، أَوْ أَمَةً فَهَلَكَتْ وَتَرَكَتْ وَلَدًا ذَكَرًا فَوَلَاءُ ذَلِكَ الْمَوْلَى لِوَلَدِهَا مَا كَانُوا ذُكُورًا، فَإِذَا انْقَطَعَتِ الذُّكُورُ رَجَعَ الْوَلَاءُ إِلَى أَوْلِيَائِهَا ". وَقَالَ شُرَيْحٌ: " يَمْضِي الْوَلَاءُ عَلَى وَجْهِهِ كَمَا يَمْضِي الْمِيرَاثُ، وَلَكِنْ لَا يُورَّثُ الْوَلَاءَ أُنْثَى إِلَّا شَيْئًا أَعْتَقَتْهُ "..
حافظ ثناء اللہ
شعبی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب عورت غلام یا لونڈی کو آزاد کرے، پھر وہ (عورت) فوت ہو جائے اور نرینہ اولاد چھوڑے تو اس آزاد کردہ کی ولاء اس عورت کی اولاد کے لیے ہے جب تک وہ مذکر ہوں۔ جب مذکر اولاد ختم ہو جائے تو ولاء اس عورت کے اولیاء (عصبہ) کی طرف لوٹ جائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ جَالِسًا عِنْدَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَاخْتَصَمَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ جُهَيْنَةَ، وَنَفَرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَكَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ كُلَيْبٍ، فَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ، وَتَرَكَتْ مَالًا وَمَوَالِيَ، فَوَرِثَهَا ابْنُهَا وَزَوْجُهَا، ثُمَّ مَاتَ ابْنُهَا فَقَالَ وَرَثَةُ ابْنِهَا: لَنَا وَلَاءُ الْمَوَالِي، قَدْ كَانَ ابْنُهَا أَحْرَزَهُ، قَالَ الْجُهَنِيُّونَ: لَيْسَ كَذَلِكَ، إِنَّمَا هُمْ مَوَالِي صَاحِبَتِنَا، فَإِذَا مَاتَ وَلَدُهَا فَلَنَا وَلَاؤُهُمْ وَنَحْنُ نَرِثُهُمْ، فَقَضَى أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ لِلْجُهَنِيِّينَ بِوَلَاءِ الْمَوَالِي..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے بیان کیا کہ وہ ابان بن عثمان بن عفان رحمہ اللہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ان کے پاس جہینہ اور بنو حارث بن خزرج کے گروہوں کا جھگڑا آگیا۔ جہینہ قبیلہ کی عورت بنو حارث بن خزرج کے ایک شخص کے نکاح میں تھی، جس کا نام ابراہیم بن کلیب تھا، وہ عورت فوت ہوگئی۔ اس نے مال اور غلام چھوڑے تو اس کے ورثاء میں سے ایک بیٹا اور خاوند تھے۔ پھر اس کا بیٹا بھی فوت ہوگیا تو اس کے بیٹے کے ورثاء نے کہا: غلاموں کی «الْوَلَاءُ» ”ولاء“ ہماری ہے، اس کے بیٹے نے اسے محفوظ کر لیا تھا۔ جہینی کہنے لگے: اس طرح نہیں، بلکہ یہ ہماری عورت کے آزاد کردہ غلام ہیں، جب اس کا بچہ فوت ہوگیا تو ان کی «الْوَلَاءُ» ”ولاء“ ہمارے لیے ہے، ہم ان کے وارث ہیں؛ تو ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے غلاموں کی ولاء کا فیصلہ جہینیوں کے حق میں کردیا۔
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ قَالَ فِي رَجُلٍ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنِينَ ثَلَاثَةً، وَتَرَكَ مَوَالِيَ أَعْتَقَهُمْ هُوَ عَتَاقَةً، ثُمَّ إِنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ بَنِيهِ هَلَكَا وَتَرَكَا وَلَدًا، قَالَ سَعِيدٌ: " يَرِثُ الْمَوَالِي الْبَاقِيَ مِنَ الثَّلَاثَةِ، فَإِذَا هَلَكَ فَوَلَدُهُ وَوَلَدَا إِخْوَتِهِ فِي الْمَوَالِي شَرْعًا سَوَاءٌ ". وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، يُؤَكِّدُ مَا مَضَى مِنَ الْآثَارِ..
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو خبر ملی کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے ایک آدمی کے بارے میں کہا جو فوت ہو گیا اور اس نے تین بیٹے اور غلام چھوڑے، جن کو اس نے آزاد کر دیا تھا، پھر اس کی اولاد میں سے دو آدمی (یعنی بیٹے) فوت ہو گئے اور ایک بچہ چھوڑا۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ باقی ماندہ (بیٹا) ان غلاموں کا وارث ہو گا، پھر جب وہ فوت ہو جائے تو اس کی اولاد اور اس کے بھائیوں کی اولاد ان غلاموں میں شرعاً مشترک ہوں گے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي: مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ ثنا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، ثنا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ ⦗٥١٢⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيِّ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَوْلَى أَخٌ فِي الدِّينِ، وَنِعْمَةٌ، وَأَحَقُّ النَّاسِ بِمِيرَاثِهِ أَقْرَبُهُمْ مِنَ الْمُعْتِقِ ".
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آزاد کردہ غلام دینی بھائی ہے اور نعمت ہے۔ لوگوں میں سے سب سے زیادہ وراثت کا حق دار وہ ہے جو آزاد کرنے والے کا قریبی ہے۔“