السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : من قال: من أحرز الميراث أحرز الولاء. باب: جس نے کہا: ”جو وراثت کا حق دار بنا، وہی ولاء کا حق دار بنے گا“۔
حدیث نمبر: 21504
وَإِنَّمَا لَفْظُ الْحَدِيثِ كَمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، وَقَبِيصَةُ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ رِيَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " الْوَلَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الرِّقِّ، مَنْ أَحْرَزَ الْوَلَاءَ أَحْرَزَ الْمِيرَاثَ ". هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مِسْعَرٌ، عَنْ عِمْرَانَ، وَإِنَّمَا مَعْنَاهُ: مَنْ كَانَ لَهُ الْوَلَاءُ كَانَ لَهُ الْمِيرَاثُ بِالْوَلَاءِ..حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ولاء غلامی کی ایک شاخ ہے، جس نے ولاء کی حفاظت کی اس نے میراث کی بھی حفاظت۔“
یہی صحیح ہے، اور مسعر نے بھی عمران سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اس کا معنی یہ ہے کہ جس کے لیے ولاء ہو، ولاء کی بنا پر میراث بھی اسی کی ہوگی۔