❮
❯
حدیث نمبر: 21503
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشَرِيكٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " الْوَلَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ النَّسَبِ، فَمَنْ أَحْرَزَ الْمِيرَاثَ فَقَدْ أَحْرَزَ الْوَلَاءَ ". كَذَا وَجَدْتُهُ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَهُوَ خَطَأٌ، وَكَأَنَّ يَزِيدَ حَمَلَ رِوَايَةَ الثَّوْرِيِّ عَلَى رِوَايَةِ شَرِيكٍ، وَشَرِيكٌ وَهِمَ فِيهِ، أَوْ وَهِمَ فِيهِ يَزِيدُ، فَمَنْ دُونَهُ..
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ فرماتے ہیں کہ ولاء نسب کی شاخ ہی ہے، جس نے میراث کو محفوظ کرلیا اس نے ولاء کو بھی محفوظ کرلیا۔
میں نے اس روایت میں اسی طرح پایا ہے، اور یہ غلطی ہے۔ گویا یزید نے ثوری کی روایت کو شریک کی روایت پر محمول کر دیا، اور اس میں شریک کو وہم ہوا، یا یزید یا اس سے نیچے کسی راوی کو وہم ہوا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الولاء / حدیث: 21503
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»