کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دو دعویٰ کرنے والے کسی ایسی چیز کا دعویٰ کریں جو ان دونوں میں سے کسی کے قبضے میں نہ ہو، اور ان میں سے ہر ایک اپنے دعوے پر گواہ پیش کر دے۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فِيهَا قَوْلَانِ: أَحَدُهُمَا: يُقْرَعُ بَيْنَهُمَا، فَأَيُّهُمَا خَرَجَ سَهْمُهُ حَلَفَ: لَقَدْ شَهِدَ شُهُودُهُ بِحَقٍّ، ثُمَّ يَقْضِي لَهُ بِهَا. قَالَ: وَكَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ بِالْقُرْعَةِ، وَيَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْكُوفِيُّونَ يَرْوُونَهَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس (مسئلے) میں دو قول ہیں: ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان قرعہ اندازی کی جائے گی، پھر جس کا قرعہ نکلے وہ قسم کھائے کہ: یقیناً اس کے گواہوں نے حق کی گواہی دی ہے، پھر (قاضی) وہ (چیز) اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا۔“
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ قرعہ اندازی کے قائل تھے، اور اسے نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے تھے، اور اہل کوفہ اسے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔“
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ قرعہ اندازی کے قائل تھے، اور اسے نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے تھے، اور اہل کوفہ اسے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔“
أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ الْمُسَيِّبِ: فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ، فَجَاءَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِشُهَدَاءَ عُدُولٍ عَلَى عِدَّةٍ وَاحِدَةٍ، فَأَسْهَمَ بَيْنَهُمَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " اللهُمَّ أَنْتَ تَقْضِي بَيْنَهُمْ "، فَقَضَى لِلَّذِي خَرَجَ لَهُ السَّهْمُ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ، وَلِهَذَا شَاهِدٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی جھگڑا لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے۔ دونوں نے عادل گواہ بھی پیش کیے۔ آپ ﷺ نے دونوں کے درمیان قرعہ ڈالا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ اقْضِ بَيْنَهُمَا» ”اے اللہ! تو ان کے درمیان فیصلہ فرما۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کے حق میں فیصلہ فرمایا جس کا قرعہ نکلا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَظُنُّهُ: مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ، ثنا الصَّغَانِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِشُهُودٍ، وَكَانُوا سَوَاءً، فَأَسْهَمَ بَيْنَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. . وَأَمَّا الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَفِيمَا:.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی نبی ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر آئے تو ان کے پاس گواہ بھی موجود تھے۔ آپ ﷺ نے دونوں کے درمیان قرعہ اندازی فرمائی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ ح قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: ثنا أَبُو كَامِلٍ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشٍ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِبَغْلٍ يُبَاعُ فِي السُّوقِ، فَقَالَ رَجُلٌ: هَذَا بَغْلِي، لَمْ أَبِعْ، وَلَمْ أَهَبْ، وَنَزَعَ عَلَى مَا قَالَ خَمْسَةٌ يَشْهَدُونَ، وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ يَدَّعِيهِ وَيَزْعُمُ أَنَّهُ بَغْلُهُ، وَجَاءَ بِشَاهِدَيْنِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّ فِيهِ قَضَاءً وَصُلْحَةً، أَمَّا الصُّلْحُ: فَيُبَاعُ الْبَغْلُ فَنُقَسِّمُهُ عَلَى سَبْعَةِ أَسْهُمٍ، لِهَذَا خَمْسَةٌ، وَلِهَذَا اثْنَانِ، فَإِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا الْقَضَاءَ بِالْحَقِّ، فَإِنَّهُ يَحْلِفُ أَحَدُ الْخَصْمَيْنِ أَنَّهُ بَغْلُهُ، مَا بَاعَهُ وَلَا ⦗٤٣٨⦘ وَهَبَهُ، فَإِنْ تَشَاحَحْتُمَا أَيُّكُمَا يَحْلِفُ أَقْرَعْتُ بَيْنَكُمَا عَلَى الْحَلِفِ، فَأَيُّكُمَا قَرَعَ حَلَفَ "، فَقَضَى بِهَذَا وَأَنَا شَاهِدٌ. وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ، مَا:.
حافظ ثناء اللہ
سماک، حضرت حنش رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بازار میں فروخت ہونے والا کوئی خچر لایا گیا، ایک آدمی نے کہہ دیا: یہ خچر میرا ہے، نہ تو میں نے ہبہ کیا اور نہ ہی فروخت، اور پانچ گواہ پیش کر دیے، دوسرے نے بھی خچر کا دعویٰ کر دیا اور دو گواہ بھی پیش کر دیے۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اس کا فیصلہ اور صلح بھی ہے کہ خچر کو فروخت کر کے سات حصوں میں تقسیم کر دو؛ جس نے پانچ گواہ پیش کیے ہیں، اس کو پانچ حصے دیے جائیں اور دوسرے کو دو حصے دے دو۔ اگر حق کا فیصلہ مطلوب ہے تو دونوں میں سے ایک قسم اٹھائے کہ یہ خچر اس کا ہے، اس نے فروخت اور ہبہ نہیں کی۔ اگر تم اس پر راضی ہو تو میں قسم کے لیے قرعہ اندازی کر دیتا ہوں، جس کا قرعہ نکلا وہ قسم اٹھائے گا۔ پھر اسی طرح فیصلہ ہوا، میں گواہ ہوں۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا جَاءَ هَذَا بِشَاهِدٍ، وَهَذَا بِشَاهِدٍ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَذَا قَالَ: " بِشَاهِدٍ "، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ جِنْسَ الشُّهُودِ. وَقَدْ مَضَى فِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ فِي مَتَاعٍ، لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَالْقَوْلُ الْآخَرُ: أَنَّهُ يَقْضِي بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ، لِأَنَّ حُجَّةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِيهَا سَوَاءٌ "..
حافظ ثناء اللہ
ابو رافع حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب دونوں فریق ایک ایک گواہ پیش کر دیں تو میں ان کے درمیان قرعہ اندازی کروں گا، کیونکہ نبی ﷺ نے بھی ایسا کیا تھا۔
(ب) ابو رافع حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس دو شخص جھگڑا لے کر آئے۔ دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہ تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”دونوں کے درمیان قسم کے لیے قرعہ ڈال لو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان میں برابر تقسیم ہوگا؛ کیونکہ دلائل دونوں کے پاس برابر ہیں۔
(ب) ابو رافع حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس دو شخص جھگڑا لے کر آئے۔ دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہ تھے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”دونوں کے درمیان قسم کے لیے قرعہ ڈال لو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان میں برابر تقسیم ہوگا؛ کیونکہ دلائل دونوں کے پاس برابر ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا، فَبَعَثَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِشَاهِدَيْنِ، فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا. . قَدْ مَضَىَ الْكَلَامُ فِي عِلَّةِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَمَا وَقَعَ مِنَ الِاخْتِلَافِ فِي إِسْنَادِهِ وَوَصْلِهِ وَمَتْنِهِ، وَلَيْسَ فِيهِ: أَنَّ الْبَعِيرَ لَمْ يَكُنْ فِي أَيْدِيهِمَا..
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں، جو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے ایک اونٹ کا دعویٰ کر دیا اور دو دو گواہ بھی پیش کر دیے۔ تو نبی ﷺ نے ان کے درمیان تقسیم کر دیا، لیکن اس میں یہ تذکرہ نہیں کہ اونٹ دونوں میں سے کسی کے ہاتھ میں نہ تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعِيرٍ، فَأَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَاهِدَيْنِ، فَقَضَى بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ. . قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو عَوَانَةَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ مَضَى فِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ سِمَاكٍ مَا ⦗٤٣٩⦘ دَلَّ عَلَى أَنَّ الْبَعِيرَ كَانَ فِي أَيْدِيهِمَا ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ الْقَدِيمِ: تَمِيمٌ رَجُلٌ مَجْهُولٌ، وَالْمَجْهُولُ لَوْ لَمْ يُعَارِضْهُ أَحَدٌ لَا تَكُونُ رِوَايَتُهُ حُجَّةً، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ يَرْوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا وَصَفْنَا، وَسَعِيدٌ سَعِيدٌ وَقَدْ زَعَمْنَا أَنَّ الْحَدِيثَيْنِ إِذَا اخْتَلَفَا فَالْحُجَّةُ فِي أَصَحِّ الْحَدِيثَيْنِ، وَلَا أَعْلَمُ عَالِمًا يُشْكِلُ عَلَيْهِ أَنَّ حَدِيثَنَا أَصَحُّ، وَأَنَّ سَعِيدًا مِنْ أَصَحِّ النَّاسِ مُرْسَلًا، وَهُوَ بِالسُّنَنِ فِي الْقُرْعَةِ أَشْبَهُ ". قَالَ الشَّيْخُ: تَمِيمُ بْنُ طَرَفَةَ الطَّائِيُّ كُوفِيٌّ، يَرْوِي عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَهُوَ مِنْ مُتَأَخِّرِي التَّابِعِينَ، وَمَتَى يُدْرِكُ دَرَجَةَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ؟.
حافظ ثناء اللہ
تمیم بن طرفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے ایک اونٹ کا جھگڑا پیش کیا اور گواہ بھی حاضر کر دیے، آپ ﷺ نے ان کے درمیان برابر تقسیم کر دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: شَهِدْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ وَاخْتَصَمَ إِلَيْهِ قَوْمٌ فِي فَرَسٍ، وَأَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةً أَنَّهَا دَابَّتُهُ أَنْتَجَهُ، قَالَ: " فَقَضَى بَيْنَهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ایک قوم نے ایک گھوڑے کا جھگڑا پیش کیا، دونوں فریقوں نے گواہ بھی پیش کیے کہ چوپائے نے ان کے پاس جنم دیا ہے تو آپ ﷺ نے ان کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي فَرَسٍ، فَأَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْبَيِّنَةَ أَنَّهُ أُنْتِجَ عِنْدَهُ، لَمْ يَبِعْهُ وَلَمْ يَهَبْهُ، وَجَاءَ الْآخَرُ بِمِثْلِ ذَلِكَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: " إِنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ ". وَرُوِيَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ: اخْتَصَمَا فِي فَرَسٍ وَجَدَاهُ مَعَ رَجُلٍ..
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمٰن بن ابی یعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے گھوڑے کا جھگڑا پیش کیا۔ دونوں نے دلائل بھی پیش کیے کہ اس نے ان کے ہاں جنم لیا ہے اور اس نے (اسے) فروخت یا ہبہ نہیں کیا تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے، اور ان میں برابر تقسیم کر دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس طرح کے مسئلے میں توقف اختیار کرتا ہوں، ان دونوں کو صلح کی صورت میں کچھ دیا جائے، وگرنہ کچھ بھی نہ دیا جائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس طرح کے مسئلے میں توقف اختیار کرتا ہوں، ان دونوں کو صلح کی صورت میں کچھ دیا جائے، وگرنہ کچھ بھی نہ دیا جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ بُنْدَارٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ الضَّبِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، وَعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَقَالَ: فِي فَرَسٍ وَجَدَاهُ مَعَ رَجُلٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي مِثْلِ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ بَعْدَ ذِكْرِ الْفَرَسِ: " وَهَذَا مِمَّا أَسْتِخِيرُ اللهَ فِيهِ، وَأَنَا فِيهِ وَاقِفٌ، ثُمَّ قَالَ: لَا يُعْطَى وَاحِدٌ مِنْهُمَا شَيْئًا، وَيُوقَفُ حَتَّى يَصْطَلِحَا. ⦗٤٤٠⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالْأَصْلُ فِي أَمْثَالِ ذَلِكَ مَا:.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی کہ انہوں نے گھوڑے کے ساتھ ایک آدمی کو بھی پایا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں اس طرح کے مسئلے میں توقف اختیار کرتا ہوں، ان دونوں کو صلح کی صورت میں کچھ دیا جائے ورنہ کچھ بھی نہ دیا جائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں اس طرح کے مسئلے میں توقف اختیار کرتا ہوں، ان دونوں کو صلح کی صورت میں کچھ دیا جائے ورنہ کچھ بھی نہ دیا جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: جَاءَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ قَدْ دُرِسَ عَلَيْهَا، وَهَلَكَ مَنْ يَعْرِفُهَا، فَقَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَقْضِي فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ فِيهِ شَيْءٌ بِرَأْيِي، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ شَيْئًا مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَإِنَّمَا يَقْتَطِعُ إِسْطَامًا مِنْ نَارٍ "، قَالَ: فَبَكَيَا، وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: حَقِّي لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " اذْهَبَا فَاقْسِمَا، وَتَوَخَّيَا الْحَقَّ، ثُمَّ اسْتَهِمَا، ثُمَّ لِيُحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دو انصاری وراثت کا جھگڑا لے کر آئے، وہ جانتے تھے لیکن جن کو پہچان تھی وہ فوت ہو گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں انسان ہوں جس کے بارے میں میرے اوپر کچھ نازل نہیں ہوا، میں اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا۔ جس کے لیے میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ فرما دوں تو گویا آگ کا انگارہ دے رہا ہوں۔“ وہ دونوں رو رہے تھے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا حق اس کو دے دیں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ آپس میں تقسیم کر لو، بھائی چارہ قائم کر لو، پھر قرعہ اندازی کر لو، پھر ہر ایک کے لیے جائز ہو گا۔“