السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: المتداعيين يتداعيان ما لم يكن في يد واحد منهما، ويقيم كل واحد منهما بينة بدعواه باب: دو دعویٰ کرنے والے کسی ایسی چیز کا دعویٰ کریں جو ان دونوں میں سے کسی کے قبضے میں نہ ہو، اور ان میں سے ہر ایک اپنے دعوے پر گواہ پیش کر دے۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فِيهَا قَوْلَانِ: أَحَدُهُمَا: يُقْرَعُ بَيْنَهُمَا، فَأَيُّهُمَا خَرَجَ سَهْمُهُ حَلَفَ: لَقَدْ شَهِدَ شُهُودُهُ بِحَقٍّ، ثُمَّ يَقْضِي لَهُ بِهَا. قَالَ: وَكَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ بِالْقُرْعَةِ، وَيَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْكُوفِيُّونَ يَرْوُونَهَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس (مسئلے) میں دو قول ہیں: ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان قرعہ اندازی کی جائے گی، پھر جس کا قرعہ نکلے وہ قسم کھائے کہ: یقیناً اس کے گواہوں نے حق کی گواہی دی ہے، پھر (قاضی) وہ (چیز) اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا۔“
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ قرعہ اندازی کے قائل تھے، اور اسے نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے تھے، اور اہل کوفہ اسے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔“
أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ الْمُسَيِّبِ: فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ، فَجَاءَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِشُهَدَاءَ عُدُولٍ عَلَى عِدَّةٍ وَاحِدَةٍ، فَأَسْهَمَ بَيْنَهُمَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " اللهُمَّ أَنْتَ تَقْضِي بَيْنَهُمْ "، فَقَضَى لِلَّذِي خَرَجَ لَهُ السَّهْمُ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ، وَلِهَذَا شَاهِدٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی جھگڑا لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے۔ دونوں نے عادل گواہ بھی پیش کیے۔ آپ ﷺ نے دونوں کے درمیان قرعہ ڈالا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ اقْضِ بَيْنَهُمَا» ”اے اللہ! تو ان کے درمیان فیصلہ فرما۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کے حق میں فیصلہ فرمایا جس کا قرعہ نکلا۔