السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: المتداعيين يتداعيان ما لم يكن في يد واحد منهما، ويقيم كل واحد منهما بينة بدعواه باب: دو دعویٰ کرنے والے کسی ایسی چیز کا دعویٰ کریں جو ان دونوں میں سے کسی کے قبضے میں نہ ہو، اور ان میں سے ہر ایک اپنے دعوے پر گواہ پیش کر دے۔
حدیث نمبر: 21244
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: جَاءَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ قَدْ دُرِسَ عَلَيْهَا، وَهَلَكَ مَنْ يَعْرِفُهَا، فَقَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَقْضِي فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ عَلَيَّ فِيهِ شَيْءٌ بِرَأْيِي، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ شَيْئًا مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَإِنَّمَا يَقْتَطِعُ إِسْطَامًا مِنْ نَارٍ "، قَالَ: فَبَكَيَا، وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: حَقِّي لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " اذْهَبَا فَاقْسِمَا، وَتَوَخَّيَا الْحَقَّ، ثُمَّ اسْتَهِمَا، ثُمَّ لِيُحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دو انصاری ایسی وراثت کا جھگڑا لے کر آئے جس کے نشانات مٹ چکے تھے اور جن کو اس کی پہچان تھی وہ فوت ہو گئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں انسان ہوں جس کے بارے میں میرے اوپر کچھ نازل نہیں ہوا، میں اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا۔ جس کے لیے میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ فرما دوں تو گویا آگ کا انگارہ دے رہا ہوں۔“ وہ دونوں رو رہے تھے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا حق اس کو دے دیں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ آپس میں تقسیم کر لو، حق کا قصد کرو، پھر قرعہ اندازی کر لو، پھر تم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کو (اپنا حق) معاف کر دے۔“