السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: المتداعيين يتداعيان ما لم يكن في يد واحد منهما، ويقيم كل واحد منهما بينة بدعواه باب: دو دعویٰ کرنے والے کسی ایسی چیز کا دعویٰ کریں جو ان دونوں میں سے کسی کے قبضے میں نہ ہو، اور ان میں سے ہر ایک اپنے دعوے پر گواہ پیش کر دے۔
حدیث نمبر: 21239
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا، فَبَعَثَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِشَاهِدَيْنِ، فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا. . قَدْ مَضَىَ الْكَلَامُ فِي عِلَّةِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَمَا وَقَعَ مِنَ الِاخْتِلَافِ فِي إِسْنَادِهِ وَوَصْلِهِ وَمَتْنِهِ، وَلَيْسَ فِيهِ: أَنَّ الْبَعِيرَ لَمْ يَكُنْ فِي أَيْدِيهِمَا..حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں، جو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے ایک اونٹ کا دعویٰ کر دیا اور دو دو گواہ بھی پیش کر دیے۔ تو نبی ﷺ نے ان کے درمیان تقسیم کر دیا، لیکن اس میں یہ تذکرہ نہیں کہ اونٹ دونوں میں سے کسی کے ہاتھ میں نہ تھا۔