کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس کی اصل ملکیت تسلیم شدہ ہو، وہ چیز اسی کی ملکیت رہے گی یہاں تک کہ اس کے خلاف قائم ہونے والے کسی گواہ (دلیل) سے اس کا زوال معلوم ہو جائے۔
حدیث نمبر: 21245
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: قِيلَ لِعَطَاءٍ: أَتَقْضِي بِالْأُصُولِ فِي الدُّورِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَنَّهَا دَارُهُ، لَمْ يَبِعْ وَلَمْ يَهَبْ ". . وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ: " أَدْرَكْتُ النَّاسَ يَقْضُونَ بِالْأُصُولِ فِي الدُّورِ ". وَعَنْ شُرَيْحٍ، وَعَامِرٍ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُمَا كَانَا يَقْضِيَانِ بِالْأَصْلِ فِي الدُّورِ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالملک بن ابی سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عطاء رحمہ اللہ سے کہا گیا: کیا آپ گھروں میں اصل کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں؟ فرمانے لگے: ہاں، جب اس بات کی دلیل مل جائے کہ اس نے گھر فروخت یا ہبہ نہیں کیا۔