حدیث نمبر: 21237
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ ح قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: ثنا أَبُو كَامِلٍ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشٍ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِبَغْلٍ يُبَاعُ فِي السُّوقِ، فَقَالَ رَجُلٌ: هَذَا بَغْلِي، لَمْ أَبِعْ، وَلَمْ أَهَبْ، وَنَزَعَ عَلَى مَا قَالَ خَمْسَةٌ يَشْهَدُونَ، وَجَاءَ رَجُلٌ آخَرُ يَدَّعِيهِ وَيَزْعُمُ أَنَّهُ بَغْلُهُ، وَجَاءَ بِشَاهِدَيْنِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّ فِيهِ قَضَاءً وَصُلْحَةً، أَمَّا الصُّلْحُ: فَيُبَاعُ الْبَغْلُ فَنُقَسِّمُهُ عَلَى سَبْعَةِ أَسْهُمٍ، لِهَذَا خَمْسَةٌ، وَلِهَذَا اثْنَانِ، فَإِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا الْقَضَاءَ بِالْحَقِّ، فَإِنَّهُ يَحْلِفُ أَحَدُ الْخَصْمَيْنِ أَنَّهُ بَغْلُهُ، مَا بَاعَهُ وَلَا ⦗٤٣٨⦘ وَهَبَهُ، فَإِنْ تَشَاحَحْتُمَا أَيُّكُمَا يَحْلِفُ أَقْرَعْتُ بَيْنَكُمَا عَلَى الْحَلِفِ، فَأَيُّكُمَا قَرَعَ حَلَفَ "، فَقَضَى بِهَذَا وَأَنَا شَاهِدٌ. وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ، مَا:.
حافظ ثناء اللہ

سماک، حضرت حنش رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بازار میں فروخت ہونے والا کوئی خچر لایا گیا، ایک آدمی نے کہہ دیا: یہ خچر میرا ہے، نہ تو میں نے ہبہ کیا اور نہ ہی فروخت، اور پانچ گواہ پیش کر دیے، دوسرے نے بھی خچر کا دعویٰ کر دیا اور دو گواہ بھی پیش کر دیے۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اس کا فیصلہ اور صلح بھی ہے کہ خچر کو فروخت کر کے سات حصوں میں تقسیم کر دو؛ جس نے پانچ گواہ پیش کیے ہیں، اس کو پانچ حصے دیے جائیں اور دوسرے کو دو حصے دے دو۔ اگر حق کا فیصلہ مطلوب ہے تو دونوں میں سے ایک قسم اٹھائے کہ یہ خچر اس کا ہے، اس نے فروخت اور ہبہ نہیں کی۔ اگر تم اس پر راضی ہو تو میں قسم کے لیے قرعہ اندازی کر دیتا ہوں، جس کا قرعہ نکلا وہ قسم اٹھائے گا۔ پھر اسی طرح فیصلہ ہوا، میں گواہ ہوں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21237
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»