کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: گواہ (دلیل) پیش کرنا مدعی پر ہے، اور قسم مدعا علیہ پر ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ قَوْمٍ وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کی بنیاد پر دیا جائے تو لوگ اپنے مالوں اور خون کے دعوے شروع کردیں، لیکن قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے (یعنی جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے)“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَخْرِزَانِ فِي بَيْتٍ، فَخَرَجَتْ إِحْدَاهُمَا وَقَدْ أُنْفِذَ بِإِشْفَى فِي كَفِّهَا، فَرُفِعَتْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَذَهَبَ دِمَاءُ قَوْمٍ وَأَمْوَالُهُمْ "، ذَكِّرُوهَا بِاللهِ، وَاقْرَءُوا عَلَيْهَا: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] فَذَكَّرُوهَا، فَاعْتَرَفَتْ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى هَذَا رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو عورتیں گھر میں کانٹے پہنے ہوئی تھیں۔ ایک آئی تو سلائی اس کی ہتھیلی میں گھس گئی۔ وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئی۔
آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کی بنیاد پر (سب کچھ) دے دیا جاتا تو وہ لوگوں کے خون اور مال کا دعویٰ کرتے، تم انہیں اللہ کی وعظ و نصیحت کرو اور ان پر یہ آیت تلاوت کرو: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77]“ کہ یہ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں، پھر ان کو وعظ و نصیحت کی گئی تو اس عورت نے اعتراف کر لیا۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے۔“
آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کی بنیاد پر (سب کچھ) دے دیا جاتا تو وہ لوگوں کے خون اور مال کا دعویٰ کرتے، تم انہیں اللہ کی وعظ و نصیحت کرو اور ان پر یہ آیت تلاوت کرو: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77]“ کہ یہ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں، پھر ان کو وعظ و نصیحت کی گئی تو اس عورت نے اعتراف کر لیا۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ - هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: رُفِعَ إِلِيَّ امْرَأَةٌ تَزْعُمُ أَنَّ صَاحِبَتَهَا وَجَأَتْهَا بِإِشْفَى حَتَّى ظَهَرَ مِنْ كَفِّهَا، ⦗٤٢٧⦘ فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى رِجَالٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنَّ الْبَيِّنَةَ عَلَى الطَّالِبِ، وَالْيَمِينَ عَلَى الْمَطْلُوبِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس آئی کہ اس کی سہیلی نے اس کی ستالی لے لی ہے جو اس نے پہن رکھی ہے، اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو وہ فرمانے لگے: ”اگر لوگ اپنے دعوؤں کی بنیاد پر دیے جانے لگے تو لوگ مالوں اور خونوں کے دعوے کردیں گے، لیکن دلیل طلب کرنے والے کے ذمے ہے اور قسم جس سے طلب کیا جا رہا ہے اس کے ذمے ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كُنْتُ قَاضِيًا لِابْنِ الزُّبَيْرِ عَلَى الطَّائِفِ، فَذَكَرَ قِصَّةَ الْمَرْأَتَيْنِ، قَالَ: فَكَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَكَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى رِجَالٌ أَمْوَالَ قَوْمٍ وَدِمَاءَهُمْ، وَلَكِنَّ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينَ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ
عثمان بن اسود، ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی طرف سے طائف کا قاضی تھا، انہوں نے دو عورتوں کا قصہ ذکر کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب تحریر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کی بنیاد پر دیا جانے لگا تو لوگ اپنی قوم کے اموال اور خون کے دعوے کر دیں گے، لیکن «الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ» ”دلیل مدعی کے ذمے ہے اور قسم اس پر ہے جو انکار کر دے۔““
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عُبْدُوسٍ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَخَلَّادٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الشَّهَادَاتِ بِطُولِهِ، عَلَى هَذَا رِوَايَةُ الْجُمْهُورِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”مدعی علیہ پر قسم“ کا فیصلہ فرمایا۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الصُّورِيُّ، فِي كِتَابِهِ إِلَيْنَا، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا الْفِرْيَابِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دلیل مدعی کے ذمہ اور قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے (یعنی جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا)“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى تَصْدِيقَ ذَلِكَ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ: مَا حَدَّثَكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالُوا: ⦗٤٢٨⦘ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " بَيِّنَتَكَ أَوْ يَمِينَهُ "، قُلْتُ: إِذًا يَحْلِفُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے پختہ قسم اٹھائی اور مسلمان کا مال لینا چاہا وہ اللہ سے ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔“ اللہ نے اس کی تصدیق نازل کی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔“ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ آئے تو پوچھا کہ ابوعبدالرحمن نے کیا بیان کیا؟ انہوں نے کہا: فلاں فلاں آیت۔ کہنے لگے: یہ میرے بارے میں نازل ہوئی۔ میرے چچا کے بیٹے کی زمین میں ایک کنواں تھا، میں نبی ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری جانب سے دلیل یا اس کے ذمہ قسم۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ قسم اٹھا دے گا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے سچی قسم اٹھائی، حالانکہ وہ اس میں جھوٹا ہے، صرف مسلمان کا مال ہڑپ کرنا چاہتا تھا، وہ اللہ سے ملاقات کرے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوں گے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا عُثْمَانُ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللهِ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ} [آل عمران: ٧٧] الْآيَةَ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا قَالَ، فَقَالَ: صَدَقَ، لَفِيَّ نَزَلَتْ، كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ "، فَقُلْتُ: إِذًا يَحْلِفُ وَلَا يُبَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] الْآيَةَ، لَفْظُ حَدِيثِ إِسْحَاقَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے قسم اٹھا کر غیر کے مال کو ہڑپ کرنا چاہا حالانکہ وہ قسم میں جھوٹا تھا، تو وہ اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہوں گے، اس کی تصدیق قرآن میں ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعے تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔“ پھر سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے۔ فرمانے لگے: ”ابو عبدالرحمن نے تمہیں کیا بیان کیا؟“ فرمایا: ہم نے وہ بیان کر دیا جو انہوں نے فرمایا تھا، فرمانے لگے: ”انہوں نے سچ فرمایا۔ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی، کیونکہ میرے اور ایک شخص کے درمیان کنویں کا جھگڑا تھا۔ ہم اپنا جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے ذمہ دلیل اور اس کے ذمہ قسم ہے“، میں نے کہا: وہ قسم اٹھا لے گا، وہ اس کی پروا نہ کرے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قسم اٹھائی اور وہ جھوٹا ہے وہ اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اس پر ناراض ہوں گے“، اللہ نے اس کی تصدیق نازل کی، پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعے تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ رَوْحٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا لَمْ يَكُنْ لِلطَّالِبِ بَيِّنَةٌ فَعَلَى الْمَطْلُوبِ الْيَمِينُ " رُوِّينَا حَدِيثَ " الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ، وَفِيمَا ذَكَرْنَاهُ كِفَايَةٌ..
حافظ ثناء اللہ
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب طلب کرنے والے کے پاس دلیل نہ ہو تو مطلوب کے ذمہ قسم ہوتی ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ كِتَابًا وَقَالَ: هَذَا كِتَابُ عُمَرَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَذَكَرَهُ، وَفِيهِ: الْبَيِّنَةُ ⦗٤٢٩⦘ عَلَى مَنِ ادَّعَى، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ.
حافظ ثناء اللہ
ادریس اودی فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بُردہ نے ایک خط نکالا اور کہنے لگے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف، اس خط میں ہے کہ ”دعویٰ کرنے والے کے ذمہ دلیل ہے اور جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے اس کے ذمہ قسم ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ: {وَأَتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ} قَالَ: " الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " وَرَوَيْنَا فِيمَا مَضَى عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: " الْأَيْمَانُ وَالشُّهُودُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت قتادہ رحمہ اللہ اللہ کے اس فرمان ﴿وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ﴾ [سورة ص: 20] کے متعلق فرماتے ہیں کہ دلیل مدعی کے ذمہ اور قسم مدعیٰ علیہ کے ذمہ ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي أَحَادِيثِ مَالِكٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُؤَذِّنِ، أَنَّهُ: كَانَ يَحْضُرُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِذْ كَانَ عَامِلًا عَلَى الْمَدِينَةِ وَهُوَ يَقْضِي بَيْنَ النَّاسِ، فَإِذَا جَاءَهُ الرَّجُلُ يَدَّعِي عَلَى الرَّجُلِ حَقًّا، نَظَرَ، فَإِنْ كَانَتْ بَيْنَهُمَا مُخَالَطَةٌ وَمُلَابَسَةٌ حَلَّفَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ لَمْ يُحَلِّفْهُ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَهَذَا شَيْءٌ ذَهَبَ إِلَيْهِ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِحْسَانِ، وَكَذَلِكَ مَا رُوِّينَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا ادَّعَى الرَّجُلُ الْفَاجِرُ عَلَى الرَّجُلِ الصَّالِحِ الشَّيْءَ الَّذِيُ يَرَى النَّاسُ أَنَّهُ كَاذِبٌ، وَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا مُعَامَلَةٌ لَمْ يُسْتَحْلَفْ لَهُ "، وَالْأَحَادِيثُ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا تُخَالِفُهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ الدَّعْوَى: " الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، سَوَاءٌ كَانَتْ بَيْنَهُمَا مُخَالَطَةٌ أَوْ لَمْ تَكُنْ ".
حافظ ثناء اللہ
جمیل بن عبدالرحمن مؤذن عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس حاضر ہوئے جس وقت وہ مدینہ کے حکمران تھے اور وہ لوگوں کے درمیان فیصلے کرتے تھے۔ اچانک ایک آدمی نے دوسرے کے خلاف دعویٰ کر دیا۔ اگر وہ دیکھتے کہ دونوں کے درمیان میل جول ہے تو مدعی علیہ پر قسم ڈال دیتے۔ اگر ان دونوں کا آپس میں میل جول نہ ہوتا تو پھر قسم نہ ڈالتے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدعی علیہ کے ذمے قسم ہو گی چاہے مدعی اور مدعی علیہ کے درمیان میل جول ہو یا نہ ہو۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدعی علیہ کے ذمے قسم ہو گی چاہے مدعی اور مدعی علیہ کے درمیان میل جول ہو یا نہ ہو۔