السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : البينة على المدعي، واليمين على المدعى عليه باب: گواہ (دلیل) پیش کرنا مدعی پر ہے، اور قسم مدعا علیہ پر ہے۔
حدیث نمبر: 21197
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ قَوْمٍ وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کی بنیاد پر دیا جائے تو لوگ اپنے مالوں اور خون کے دعوے شروع کردیں، لیکن قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے (یعنی جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے)“