❮
❯
حدیث نمبر: 21206
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ رَوْحٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا لَمْ يَكُنْ لِلطَّالِبِ بَيِّنَةٌ فَعَلَى الْمَطْلُوبِ الْيَمِينُ " رُوِّينَا حَدِيثَ " الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ، وَفِيمَا ذَكَرْنَاهُ كِفَايَةٌ..
حافظ ثناء اللہ

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب طلب کرنے والے کے پاس دلیل نہ ہو تو مطلوب کے ذمہ قسم ہوتی ہے۔“
”دلیل مدعی کے ذمہ اور قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے“ والی حدیث ہمیں دیگر سندوں سے بھی پہنچی ہے، جو سب کی سب ضعیف ہیں، اور جو ہم نے ذکر کیا وہ کافی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21206
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»