السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : البينة على المدعي، واليمين على المدعى عليه باب: گواہ (دلیل) پیش کرنا مدعی پر ہے، اور قسم مدعا علیہ پر ہے۔
حدیث نمبر: 21200
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ - هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: رُفِعَ إِلِيَّ امْرَأَةٌ تَزْعُمُ أَنَّ صَاحِبَتَهَا وَجَأَتْهَا بِإِشْفَى حَتَّى ظَهَرَ مِنْ كَفِّهَا، ⦗٤٢٧⦘ فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى رِجَالٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنَّ الْبَيِّنَةَ عَلَى الطَّالِبِ، وَالْيَمِينَ عَلَى الْمَطْلُوبِ ".حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس آئی کہ اس کی سہیلی نے اس کی ستالی لے لی ہے جو اس نے پہن رکھی ہے، اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو وہ فرمانے لگے: ”اگر لوگ اپنے دعوؤں کی بنیاد پر دیے جانے لگے تو لوگ مالوں اور خونوں کے دعوے کردیں گے، لیکن دلیل طلب کرنے والے کے ذمے ہے اور قسم جس سے طلب کیا جا رہا ہے اس کے ذمے ہے۔“