السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : البينة على المدعي، واليمين على المدعى عليه باب: گواہ (دلیل) پیش کرنا مدعی پر ہے، اور قسم مدعا علیہ پر ہے۔
حدیث نمبر: 21201
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كُنْتُ قَاضِيًا لِابْنِ الزُّبَيْرِ عَلَى الطَّائِفِ، فَذَكَرَ قِصَّةَ الْمَرْأَتَيْنِ، قَالَ: فَكَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَكَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى رِجَالٌ أَمْوَالَ قَوْمٍ وَدِمَاءَهُمْ، وَلَكِنَّ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينَ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.حافظ ثناء اللہ
عثمان بن اسود، ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی طرف سے طائف کا قاضی تھا، انہوں نے دو عورتوں کا قصہ ذکر کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب تحریر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں کی بنیاد پر دیا جانے لگا تو لوگ اپنی قوم کے اموال اور خون کے دعوے کر دیں گے، لیکن «الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ» ”دلیل مدعی کے ذمے ہے اور قسم اس پر ہے جو انکار کر دے۔““