کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: دو آدمی کسی مال پر جھگڑیں اور متنازعہ مال ان میں سے کسی ایک کے قبضے میں ہو۔
حدیث نمبر: 21210
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَهُوَ لِلَّذِي فِيُ يَدِهِ مَعَ يَمِينِهِ إِذَا لَمْ تَقُمْ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو وہ (چیز) اسی کی ہو گی جس کے قبضے میں ہے، اس کی قسم کے ساتھ، جبکہ ان دونوں میں سے کسی کے حق میں کوئی دلیل (گواہی) قائم نہ ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21210
حدیث نمبر: 21210
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِيُ يَدِي، أَزْرَعُهَا، لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: " أَلَكَ بَيِّنَةٌ "؟ قَالَ: لَا، قَالَ: " فَلَكَ يَمِينُهُ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ رَجُلٌ فَاجِرٌ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، ⦗٤٣٠⦘ لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ "، فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ، قَالَ: فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّهُ إِنْ حَلَفَ عَلَى مَالٍ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَجَمَاعَةٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علقمہ بن وائل بن حجر اپنے والد (سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرموت اور کندہ قبیلے کے دو آدمی نبی ﷺ کے پاس آئے۔ حضرمی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اس نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ کندی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ میری زمین ہے، میں اس میں کھیتی باڑی کرتا ہوں اور اس کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرمی سے دریافت فرمایا: ”کیا آپ کے پاس دلیل ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے حضرمی سے پوچھا: ”کیا آپ کے پاس دلیل ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اس کی جانب سے قسم ہے۔“ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ فاجر آدمی ہے، اس کو قسم کی کیا پروا، یہ کسی چیز سے نہیں بچتا۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے یہی ہے۔“ وہ آدمی قسم اٹھانے کے لیے چلا، جب وہ واپس مڑا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس بندے نے قسم اٹھائی تاکہ وہ دوسرے کا مال ظلم کی وجہ سے کھا سکے، تو کل وہ اللہ رب العزت سے ملاقات کرے گا تو اللہ اس سے منہ موڑنے والے ہوں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21210
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 139»
حدیث نمبر: 21211
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: هِيَ لِي، وَقَالَ الْآخَرُ: هِيَ لِي حُزْتُهَا وَقَبَضْتُهَا، فَقَالَ فِيهَا: " الْيَمِينُ لِلَّذِي بِيَدِهِ الْأَرْضُ "، فَلَمَّا تَفَوَّهَ لِيَحْلِفَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّهُ مَنْ حَلَفَ عَلَى مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، قَالَ: فَمَنْ تَرَكَهَا؟ قَالَ: " كَانَ لَهُ الْجَنَّةُ ".
حافظ ثناء اللہ
عدی بن عدی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی زمین کا جھگڑا لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے، ایک نے کہا: میری ہے، دوسرا کہنے لگا: میری ہے، کیونکہ میرے قبضے میں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”زمین جس کے قبضے میں ہے اس کے ذمے قسم ہے“، جب وہ قسم اٹھانے کے لیے تیار ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرنے کے لیے قسم اٹھائی تو وہ اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اس پر ناراض ہوں گے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اس کو چھوڑ دیا تو اس کے لیے جنت ہے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21211
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم برقم 20708»
حدیث نمبر: 21212
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ - هُوَ ابْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ عَدِيٍّ الْكِنْدِيَّ يُحَدِّثُ فِي حَلْقَةٍ بِمِنًى، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ وَالْعُرْسُ بْنُ عَمِيرَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ أَنَّ امْرَأَ الْقَيْسِ بْنَ عَابِسٍ الْكِنْدِيَّ خَاصَمَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ فِي أَرْضٍ، فَسَأَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَضْرَمِيَّ الْبَيِّنَةَ، فَلَمْ تَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ، فَقَضَى عَلَى امْرِئِ الْقَيْسِ بِالْيَمِينِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: أَمْكَنْتَهُ يَا رَسُولَ اللهِ مِنَ الْيَمِينِ ذَهَبَتْ وَاللهِ أَرْضِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ أَخِيهِ لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، قَالَ: وَقَالَ رَجُلٌ: وَتَلَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ: فَقَالَ امْرُؤُ الْقَيْسِ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَاذَا لِمَنْ تَرَكَهَا؟ قَالَ: " لَهُ الْجَنَّةُ "، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَرَكْتُهَا.
حافظ ثناء اللہ
عدی بن عدی کندی رحمہ اللہ نے منیٰ کے میدان میں اپنے شاگردوں سے فرمایا، رجا بن حیوہ اور عرس بن عمیرہ نے عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ امرء القیس بن عابس کندی رضی اللہ عنہ اور حضر موت کا ایک آدمی زمین کا جھگڑا لے کر آئے۔ حضرمی سے نبی ﷺ نے دلیل کا سوال کیا تو اس کے پاس دلیل نہ تھی۔ آپ ﷺ نے امرء القیس رضی اللہ عنہ پر قسم ڈال دی تو حضرمی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ قسم کے ذریعے میری زمین لے جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جھوٹی قسم کے ذریعے اپنے مسلمان بھائی کا مال لیا وہ قیامت والے دن اللہ سے ملاقات کرے گا، اس حال میں کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا۔“
رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”وہ لوگ جو اپنی قسموں اور اللہ کے عہد کے عوض تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔“ امرء القیس رضی اللہ عنہ کہنے لگا: جو اس جھگڑے کو چھوڑ دے اس کو کیا ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت۔“ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ! گواہ ہوجائیں، میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21212
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»