وَرَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: حَضَرْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ يَقْضُونَ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَسَدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِشِكَابَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ، فَذَكَرَهُ. وَالرِّوَايَةُ فِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ضَعِيفَةٌ، وَهِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَشْهُورَةٌ، وَفِيمَا رَوَى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى شُرَيْحٍ، وَهُوَ وَإِنْ كَانَ مُنْقَطِعًا فَفِيهِ تَأْكِيدٌ لِرِوَايَةِ ابْنِ أَبِي سَبْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ابوبکر، عثمان اور عمر رضی اللہ عنہم کے پاس حاضر ہوا۔ سب قسم اور گواہ کے ذریعے فیصلہ فرماتے تھے۔
اس بارے میں ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سے روایت ضعیف ہے، جبکہ علی بن ابی طالب اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما سے یہ مشہور ہے۔ اور سلیمان بن بلال کی ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے روایت میں ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات قاضی شریح کو لکھی تھی، اور یہ روایت اگرچہ منقطع ہے، لیکن اس میں ابن ابی سبرہ کی روایت کی تائید ہے۔
اس بارے میں ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سے روایت ضعیف ہے، جبکہ علی بن ابی طالب اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما سے یہ مشہور ہے۔ اور سلیمان بن بلال کی ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے روایت میں ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات قاضی شریح کو لکھی تھی، اور یہ روایت اگرچہ منقطع ہے، لیکن اس میں ابن ابی سبرہ کی روایت کی تائید ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ عُتَيْبَةَ، يَسْأَلُ أَبِي وَقَدْ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى جِدَارِ الْقَبْرِ لِيَقُومَ: ⦗٢٩٢⦘ أَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَقَضَى بِهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ.
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حکم بن عتیبہ کو اپنے والد سے سوال کرتے سنا، جبکہ انہوں نے کھڑے ہونے کے لیے اپنا ہاتھ قبر کی دیوار پر رکھا ہوا تھا: کیا نبی ﷺ نے قسم اور گواہ کے ساتھ فیصلہ فرمایا تھا؟ کہنے لگے: جی ہاں، اور علی رضی اللہ عنہ نے بھی تمہارے درمیان اسی طرح فیصلہ فرمایا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ اللَّبَّانُ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ يَعْقُوبَ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ "، يَعْنِي: فِي الْأَمْوَالِ، وَقَضَى بِذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: وَقَضَى بِذَلِكَ أُبِيُّ بْنُ كَعْبٍ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اموال کے بارے میں قسم اور گواہ کے ساتھ فیصلہ کیا اور کوفہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فیصلہ کیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہما نے بھی یہی فیصلہ کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: وَذُكِرَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوجعفر محمد بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے قسم اور گواہ کے ذریعہ فیصلہ فرمایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَتَبَ إِلَى عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ عَامِلٌ لَهُ بِالْكُوفَةِ: " أَنِ اقْضِ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ "..
حافظ ثناء اللہ
ابوزناد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب رحمہ اللہ، جو کوفہ کے عامل تھے، ان کو خط لکھا کہ قسم اور گواہ کے ذریعے فیصلہ کر دیا کرو۔
قَالَ: وَأَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ الثِّقَةُ مِنْ أَصْحَابِنَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، كَتَبَ إِلَى عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ عَامِلُهُ عَلَى الْكُوفَةِ: " أَنِ اقْضِ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، فَإِنَّهَا السُّنَّةُ " قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ كُبَرَائِهِمْ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ شُرَيْحًا قَضَى بِهَذَا فِي هَذَا الْمَسْجِدِ..
حافظ ثناء اللہ
ابوزناد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عبدالحمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کو خط لکھا جو کوفہ کے عامل تھے کہ قسم اور گواہ کے ساتھ فیصلہ کرو، یہ سنت ہے۔ ابوزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان کے بڑوں میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا، اس نے کہا: قاضی شریح رحمہ اللہ نے اسی طرح اس مسجد میں فیصلہ کیا تھا۔
قَالَ: وَأَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ قَالَ: وَذَكَرَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ رُزَيْقِ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أُخْبِرُهُ أَنِّي لَمْ أَجِدِ الْيَمِينَ مَعَ الشَّاهِدِ إِلَّا بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلِيَّ: " أَنِ اقْضِ بِهَا، فَإِنَّهَا السُّنَّةُ ".
حافظ ثناء اللہ
زریق بن حکیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو لکھا کہ قسم کے ساتھ گواہ صرف مدینہ میں میسر ہے۔ انہوں نے مجھے لکھا کہ ایسے ہی فیصلہ کرو، یہ سنت ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، أنبأ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ رُزَيْقَ بْنَ حَكِيمٍ، كَانَ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَلَى أَيْلَةَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنِّي لَمْ أَجِدِ الشَّاهِدَ وَالْيَمِينَ إِلَّا بِالْحِجَازِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ: " أَنِ اقْضِ بِهِ، فَإِنَّهُ السُّنَّةُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالعزیز بن ابو سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زریق بن حکیم رحمہ اللہ، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ایلہ پر عامل تھے۔ انہوں نے لکھا کہ گواہ اور قسم صرف حجاز میں ملتے ہیں۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھا: ایسے فیصلہ کرو کیونکہ یہ سنت ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ مَيْمُونٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: خَاصَمْتُ ⦗٢٩٣⦘ إِلَى الشَّعْبِيِّ فِي مُوضِحَةٍ، فَشَهِدَ الْقَائِسُ أَنَّهَا مُوضِحَةٌ، فَقَالَ الشَّاجُّ لِلشَّعْبِيِّ: أَتَقْبَلُ عَلَى شَهَادَةِ رَجُلٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ الشَّعْبِيُّ: " قَدْ شَهِدَ الْقَائِسُ أَنَّهَا مُوضِحَةٌ، وَيَحْلِفُ الْمَشْجُوجُ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ "، قَالَ: فَقَضَى الشَّعْبِيُّ فِيهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَذُكِرَ عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مُغِيرَةَ أَنَّ الشَّعْبِيَّ قَالَ: " إِنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ يَقْضُونَ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ ".
حافظ ثناء اللہ
حفص بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ہڈی کو ظاہر کر دینے والے زخم کے بارے میں اپنا جھگڑا شعبی رحمہ اللہ کے پاس لے کر گیا، زخم کا اندازہ لگانے والے نے گواہی دی کہ یہ ہڈی کو ظاہر کرنے والا ہی ہے، تو زخم لگانے والے آدمی نے شعبی رحمہ اللہ سے کہا: کیا آپ (میرے خلاف) ایک آدمی کی شہادت قبول کر لیں گے؟ شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: اندازہ لگانے والے نے گواہی دی ہے کہ یہ زخم ہڈی کو ظاہر کرنے والا ہے، اور زخمی آدمی بھی اسی پر قسم اٹھائے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس میں شعبی رحمہ اللہ نے فیصلہ کر دیا۔
ہشیم، مغیرہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: اہل مدینہ قسم اور گواہ کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں۔
ہشیم، مغیرہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: اہل مدینہ قسم اور گواہ کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سُئِلَا: أَيُقْضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ؟ فَقَالَا: " نَعَمْ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَذَكَرَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ شُرَيْحًا قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، قَالَ: وَذَكَرَ إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، قَالَ: وَذَكَرَ هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ قَالَ: خَاصَمْتُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ فَقَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَذُكِرَ عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُدَيْرٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ: قَضَى زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، فَقَضَى بِشَهَادَتِي وَحْدِي "، قَالَ: وَقَالَ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّ شُرَيْحًا أَجَازَ شَهَادَةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَحْدَهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ دونوں سے سوال کیا گیا: کیا قسم اور گواہ کے ذریعہ فیصلہ کیا جائے گا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔
(ب) محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ نے قسم اور گواہ کے ذریعے فیصلہ کیا۔
(ج) ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ نے قسم اور گواہ کے ساتھ فیصلہ کیا۔
(د) ہشیم رحمہ اللہ، حضرت حصین رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں اپنا جھگڑا عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کے پاس لے کر گیا تو انہوں نے قسم اور گواہ کے ذریعہ فیصلہ کیا۔
(ز) ابومجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زرارہ بن اوفیٰ رحمہ اللہ نے فیصلہ کیا تو صرف میری اکیلی شہادت پر فیصلہ فرمایا۔
(ح) ابوقیس اور ابواسحاق رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ قاضی شریح رحمہ اللہ نے ان دونوں میں سے ہر ایک کی اکیلی شہادت کو جائز قرار دیا۔
(ب) محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ نے قسم اور گواہ کے ذریعے فیصلہ کیا۔
(ج) ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ نے قسم اور گواہ کے ساتھ فیصلہ کیا۔
(د) ہشیم رحمہ اللہ، حضرت حصین رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں اپنا جھگڑا عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کے پاس لے کر گیا تو انہوں نے قسم اور گواہ کے ذریعہ فیصلہ کیا۔
(ز) ابومجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زرارہ بن اوفیٰ رحمہ اللہ نے فیصلہ کیا تو صرف میری اکیلی شہادت پر فیصلہ فرمایا۔
(ح) ابوقیس اور ابواسحاق رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ قاضی شریح رحمہ اللہ نے ان دونوں میں سے ہر ایک کی اکیلی شہادت کو جائز قرار دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: " أَجَازَ شُرَيْحٌ شَهَادَتِي وَحْدِي ".
حافظ ثناء اللہ
ابواسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ نے میری اکیلی شہادت کو بھی قبول کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ ⦗٢٩٤⦘ حُمَيْدٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: " شَهِدْتُ عِنْدَ شُرَيْحٍ عَلَى مُصْحَفٍ فَأَجَازَ شَهَادَتَهُ وَحْدَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوقیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک مصحف کے بارے میں گواہی دی تو انہوں نے اکیلے کی شہادت کو بھی جائز قرار دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: كَانَ شُرَيْحٌ يُجِيزُ شَهَادَةَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ إِذَا عَرَفَهُ مَعَ يَمِينِ الطَّالِبِ فِي الشَّيْءِ الْيَسِيرِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ جب گواہ کو پہچانتے ہوتے تو تھوڑی چیز کے بارے میں مطالبہ کرنے والے کی قسم کے ساتھ اکیلے گواہ کی شہادت کو جائز قرار دیتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْعَتَكِيِّ،: " أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ كَانَ يَقْضِي بِشَهَادَةِ شَاهِدٍ وَيَمِينٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالمجید عتکی فرماتے ہیں کہ یحییٰ بن یعمر ایک گواہ اور قسم کے ذریعے فیصلہ کر دیتے تھے۔ [ضعیف]
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرٍ: " أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، يَسْتَحْلِفُ صَاحِبَ الْحَقِّ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ، قَالَ بُكَيْرٌ: وَلَمْ يَزَلْ يَقْضِي بِذَلِكَ عِنْدَنَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن لہیعہ، بکیر سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ابوسلمہ رحمہ اللہ سے سنا، وہ صاحبِ حق سے قسم کے ساتھ ایک گواہ مانگتے تھے؛ بکیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ رحمہ اللہ اسی طرح فیصلہ فرماتے رہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا كُلْثُومُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: " أَدْرَكْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ حَبِيبٍ، وَالزُّهْرِيَّ يَقْضِيَانِ بِذَلِكَ "، يَعْنِي: بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ، قَالَ كُلْثُومٌ: " وَكَانَ أَبُو ثَابِتٍ سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ قَاضِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ ثَلَاثِينَ سَنَةً، يَقْضِي بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ ".
حافظ ثناء اللہ
کلثوم بن زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سلیمان بن حبیب رحمہ اللہ اور زہری رحمہ اللہ دونوں کو دیکھا کہ وہ ایک قسم اور گواہ کے ذریعے فیصلہ فرماتے تھے۔ کلثوم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلیمان بن حبیب رحمہ اللہ تیس سال مدینہ کے قاضی رہے، وہ قسم اور گواہ کے ساتھ فیصلہ کرتے رہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: الزَّنْجِيُّ بْنُ خَالِدٍ، أنبأ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا رَجْعَةَ إِلَّا بِشَاهِدَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ عُذْرٌ، فَيَأْتِيَ بِشَاهِدٍ، وَيَحْلِفَ مَعَ شَاهِدِهِ ". ⦗٢٩٥⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَعَطَاءٌ يُفْتِي بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ فِيمَا لَا يَقُولُ بِهِ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِنَا "، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَالْيَمِينُ مَعَ الشَّاهِدِ لَا يُخَالِفُ مِنْ ظَاهِرِ الْقُرْآنِ شَيْئًا، لِأَنَّا نَحْكُمُ بِشَاهِدَيْنِ، وَبِشَاهِدٍ وَامْرَأَتَيْنِ، وَلَا يَمِينَ، فَإِذَا كَانَ شَاهِدٌ حَكَمْنَا بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ، وَلَيْسَ هَذَا بِخِلَافِ ظَاهِرِ الْقُرْآنِ، لِأَنَّهُ لَمْ يُحَرِّمْ أَنْ يَجُوزَ أَقَلُّ مِمَّا نَصَّ عَلَيْهِ فِي كِتَابِهِ "، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ بِمَعْنَى مَا أَرَادَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَدْ أَمَرَنَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ نَأْخُذَ مَا آتَانَا، وَنَنْتَهِيَ عَمَّا نَهَانَا، وَنَسْأَلُ اللهَ الْعِصْمَةَ وَالتَّوْفِيقَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رجوع میں دو گواہ ضروری ہیں؛ اگر عذر ہو تو ایک گواہ اور ایک قسم۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء رحمہ اللہ نے قسم اور گواہ کے ذریعہ ایسے فیصلہ دیا حالانکہ ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا، اور فرمایا:
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قسم اور گواہ یہ قرآن کے ظاہر کے خلاف نہیں؛ کیونکہ ہم دو گواہوں کے ذریعے، اور ایک گواہ اور دو عورتوں کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں اور (اس میں) قسم نہیں ہوتی؛ جب ایک گواہ ہو تو گواہ اور قسم سے فیصلہ کر دیتے ہیں، اور یہ قرآن کے ظاہر کے خلاف نہیں ہے، کیونکہ قرآن نے اس بات کو حرام نہیں کیا کہ جو اس نے اپنی کتاب میں صراحت سے بیان کیا ہے اس سے کم بھی جائز ہو۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اللہ عزوجل کی مراد کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں، اور اللہ عزوجل نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جو کچھ آپ ﷺ ہمیں دیں وہ لے لیں اور جس سے روکیں اس سے رک جائیں، اور ہم اللہ سے حفاظت اور توفیق کا سوال کرتے ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء رحمہ اللہ نے قسم اور گواہ کے ذریعہ ایسے فیصلہ دیا حالانکہ ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا، اور فرمایا:
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قسم اور گواہ یہ قرآن کے ظاہر کے خلاف نہیں؛ کیونکہ ہم دو گواہوں کے ذریعے، اور ایک گواہ اور دو عورتوں کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں اور (اس میں) قسم نہیں ہوتی؛ جب ایک گواہ ہو تو گواہ اور قسم سے فیصلہ کر دیتے ہیں، اور یہ قرآن کے ظاہر کے خلاف نہیں ہے، کیونکہ قرآن نے اس بات کو حرام نہیں کیا کہ جو اس نے اپنی کتاب میں صراحت سے بیان کیا ہے اس سے کم بھی جائز ہو۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اللہ عزوجل کی مراد کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں، اور اللہ عزوجل نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جو کچھ آپ ﷺ ہمیں دیں وہ لے لیں اور جس سے روکیں اس سے رک جائیں، اور ہم اللہ سے حفاظت اور توفیق کا سوال کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: " لَا تَكُونُ الْيَمِينُ مَعَ الشَّاهِدِ فِي الطَّلَاقِ وَلَا الْعِتَاقِ وَلَا الْفُرْقَةِ "، وَلَمْ يَكُونُوا يُجِيزُونَ شَهَادَةَ النِّسَاءِ لَا رَجُلَ مَعَهُنَّ، إِلَّا فِيمَا لَا يَرَاهُ إِلَّا النِّسَاءُ، وَكَانُوا يَقُولُونَ: " مَنْ شَهِدَ لَهُ شَاهِدٌ عَلَى قَتْلِ عَبْدِهِ حَلَفَ مَعَ شَاهِدِهِ يَمِينًا وَاحِدَةً، وَاسْتَوْجَبَ قِيمَةَ عَبْدِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی زناد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے اور وہ فقہاء سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاق، «عِتَاق» یعنی آزادی اور جدائی میں قسم اور گواہ کے ساتھ فیصلہ نہ کیا جائے گا۔ وہ عورتوں کی گواہی کو، جبکہ ان کے ساتھ کوئی مرد نہ ہو، جائز نہیں خیال کرتے تھے، سوائے ان معاملات کے جنہیں صرف عورتیں ہی دیکھتی ہیں، اور کہتے تھے: جس کے حق میں اس کے غلام کے قتل پر ایک گواہ گواہی دے دے تو وہ اپنے گواہ کے ساتھ ایک قسم اٹھائے، تو اس کے غلام کی قیمت واجب ہوجائے گی۔