حدیث نمبر: 20682
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ مَيْمُونٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: خَاصَمْتُ ⦗٢٩٣⦘ إِلَى الشَّعْبِيِّ فِي مُوضِحَةٍ، فَشَهِدَ الْقَائِسُ أَنَّهَا مُوضِحَةٌ، فَقَالَ الشَّاجُّ لِلشَّعْبِيِّ: أَتَقْبَلُ عَلَى شَهَادَةِ رَجُلٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ الشَّعْبِيُّ: " قَدْ شَهِدَ الْقَائِسُ أَنَّهَا مُوضِحَةٌ، وَيَحْلِفُ الْمَشْجُوجُ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ "، قَالَ: فَقَضَى الشَّعْبِيُّ فِيهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَذُكِرَ عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مُغِيرَةَ أَنَّ الشَّعْبِيَّ قَالَ: " إِنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ يَقْضُونَ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ ".
حافظ ثناء اللہ

حفص بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے شعبی رحمہ اللہ سے ہڈی کو ظاہر کر دینے والے زخم کے بارے میں جھگڑا کیا، قیس نے گواہی دی کہ یہ ہڈی کو ظاہر کرنے والا ہی ہے، تو زخمی آدمی نے شعبی رحمہ اللہ سے کہا: کیا آپ ایک آدمی کی شہادت قبول کر لیں گے؟ شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: قیس نے گواہی دی کہ یہ زخم ہڈی کو ظاہر کرنے والا ہے، اور زخمی کیے گئے آدمی نے بھی قسم اٹھائی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس میں شعبی رحمہ اللہ نے فیصلہ کر دیا۔
ہیثم، مغیرہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: اہل مدینہ قسم اور گواہ کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20682
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»