السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من تحمل الشهادة وهو كافر، أو صبي أو عبد، ثم أسلم الكافر، وبلغ الصبي، وعتق العبد، فقاموا بشهادتهم باب: جس نے کفر، بچپن یا غلامی کی حالت میں گواہی یاد رکھی، پھر کافر مسلمان ہو گیا، بچہ بالغ ہو گیا اور غلام آزاد ہو گیا، اور انہوں نے اپنی گواہی قائم (ادا) کی۔
فِيمَا رَوَى ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ: أَنَّ الْمُطَّلِبَ بْنَ أَبِي وَدَاعَةَ وَيَعْلَى بْنَ أُمَيَّةَ كَانَتْ عِنْدَهُمَا شَهَادَةٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَرُفِعَا إِلَى مُعَاوِيَةَ فِي الْإِسْلَامِ فَأَجَازَهَا ".(اس کی دلیل) وہ روایت ہے جسے ابن لہیعہ نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ: ”مطلب بن ابی وداعہ اور یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہما کے پاس زمانہ جاہلیت کی ایک گواہی تھی، تو اسلام (کے زمانے) میں یہ دونوں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیے گئے تو انہوں نے اس (گواہی) کو جائز قرار دیا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَيُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ: " أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ فِي شَهَادَةِ الْغُلَامِ إِذَا شَهِدَ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ ثُمَّ قَامَ بِهَا إِذَا بَلَغَ، وَالنَّصْرَانِيِّ وَالْيَهُودِيِّ إِذَا شَهِدَا فِي حَالِ شِرْكٍ ثُمَّ أَسْلَمَا، وَالْعَبْدِ إِذَا شَهِدَ ثُمَّ أُعْتِقَ، ثُمَّ قَامُوا بِشَهَادَتِهِمْ: أَنَّ شَهَادَتَهُمْ جَائِزَةٌ ".محمد بن سالم رحمہ اللہ، شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بچہ جب بلوغت سے پہلے گواہی دیکھے، پھر بالغ ہو جائے تو گواہی دے تو درست ہے اور یہودی یا عیسائی شرک کی حالت میں گواہی دیں، پھر مسلمان ہو جائیں، اسی طرح غلام جو بعد میں آزاد ہو جائے، پھر گواہی دے تو اس کی گواہی جائز ہے۔