السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : القضاء باليمين مع الشاهد باب: ایک گواہ اور قسم کے ساتھ فیصلہ صادر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20690
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: الزَّنْجِيُّ بْنُ خَالِدٍ، أنبأ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا رَجْعَةَ إِلَّا بِشَاهِدَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ عُذْرٌ، فَيَأْتِيَ بِشَاهِدٍ، وَيَحْلِفَ مَعَ شَاهِدِهِ ". ⦗٢٩٥⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَعَطَاءٌ يُفْتِي بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ فِيمَا لَا يَقُولُ بِهِ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِنَا "، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَالْيَمِينُ مَعَ الشَّاهِدِ لَا يُخَالِفُ مِنْ ظَاهِرِ الْقُرْآنِ شَيْئًا، لِأَنَّا نَحْكُمُ بِشَاهِدَيْنِ، وَبِشَاهِدٍ وَامْرَأَتَيْنِ، وَلَا يَمِينَ، فَإِذَا كَانَ شَاهِدٌ حَكَمْنَا بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ، وَلَيْسَ هَذَا بِخِلَافِ ظَاهِرِ الْقُرْآنِ، لِأَنَّهُ لَمْ يُحَرِّمْ أَنْ يَجُوزَ أَقَلُّ مِمَّا نَصَّ عَلَيْهِ فِي كِتَابِهِ "، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ بِمَعْنَى مَا أَرَادَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَدْ أَمَرَنَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ نَأْخُذَ مَا آتَانَا، وَنَنْتَهِيَ عَمَّا نَهَانَا، وَنَسْأَلُ اللهَ الْعِصْمَةَ وَالتَّوْفِيقَ ".حافظ ثناء اللہ
ابن جریج حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رجوع میں دو گواہ ضروری ہیں؛ اگر عذر ہو تو ایک گواہ اور ایک قسم۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عطاء رحمہ اللہ نے قسم اور گواہ کے ذریعہ ایسے فیصلہ دیا حالانکہ ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا، اور فرمایا: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قسم اور گواہ یہ قرآن کے ظاہر کے خلاف نہیں؛ کیونکہ ہم تو فیصلہ کرتے ہیں کہ دو عورتوں میں سے گواہ اور ایک مرد، قسم نہیں؛ جب گواہ موجود ہو تو گواہ اور قسم سے فیصلہ کر دیا، کیونکہ یہ قرآن کی نص کے خلاف نہیں ہے۔