حدیث نمبر: 20691
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: " لَا تَكُونُ الْيَمِينُ مَعَ الشَّاهِدِ فِي الطَّلَاقِ وَلَا الْعِتَاقِ وَلَا الْفُرْقَةِ "، وَلَمْ يَكُونُوا يُجِيزُونَ شَهَادَةَ النِّسَاءِ لَا رَجُلَ مَعَهُنَّ، إِلَّا فِيمَا لَا يَرَاهُ إِلَّا النِّسَاءُ، وَكَانُوا يَقُولُونَ: " مَنْ شَهِدَ لَهُ شَاهِدٌ عَلَى قَتْلِ عَبْدِهِ حَلَفَ مَعَ شَاهِدِهِ يَمِينًا وَاحِدَةً، وَاسْتَوْجَبَ قِيمَةَ عَبْدِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمن بن ابی زناد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے اور وہ فقہاء سے نقل فرماتے ہیں کہ طلاق، «عِتَاق» یعنی آزادی اور جدائی میں قسم اور گواہ کے ساتھ فیصلہ نہ کیا جائے گا۔ وہ عورتوں کی گواہی اور ان کے ساتھ مرد کی گواہی کو جائز نہیں خیال کرتے تھے اور کہتے تھے: جس نے اپنے غلام کے قتل پر گواہی دی اور ساتھ ایک قسم بھی اٹھائی تو اس کے غلام کی قیمت واجب ہوجائے گی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20691
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»