کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے کہا کہ قاضی کے لیے اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلِيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيَ نَحْوَ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَهَذَا فِيمَا لَمْ يَقَعْ لَهُ بِهِ عِلْمٌ مِنْ قَبْلُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں بھی انسان ہوں، تم اپنے جھگڑے لے کر میرے پاس آتے ہو، لیکن بعض اپنے دلائل کے اعتبار سے دوسرے پر غلبہ پا لیتا ہے، میں سماعت کے مطابق فیصلہ کر دیتا ہوں۔ کسی کے حق کا فیصلہ میں کر دوں تو وہ اسے وصول نہ کرے، بلکہ سمجھے کہ میں اس کو جہنم کا ایک ٹکڑا دے رہا ہوں۔“
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي، ح، وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، وَأُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَبَةَ خِصَامٍ عِنْدَ بَابِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ، وَلَعَلَّ بَعْضَهُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيَ لَهُ بِذَلِكَ، وَأَحْسِبَ أَنَّهُ صَادِقٌ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ، فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ لِيَدَعْهَا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے دروازے کے سامنے جھگڑا کرنے والوں کی آوازیں سنیں، آپ ﷺ ان کی طرف نکلے اور فرمایا: ”میں انسان ہوں، میرے پاس جھگڑا لے کر آتے ہو، شاید بعض زیادہ چرب زبان ہوں اور میں اسے سچا خیال کرتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ کر دوں، لہٰذا جس کے لیے میں فیصلہ کر دوں تو یہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے، چاہے وہ اسے وصول کر لے یا چھوڑ دے۔“
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْفَامِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضِي، قَدْ كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي، أَزْرَعُهَا، لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: " أَلَكَ بَيِّنَةٌ "؟ قَالَ: لَا، قَالَ: " فَلَكَ يَمِينُهُ "، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّهُ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، لَيْسَ يَتَوَرَّعُ عَنْ شَيْءٍ، قَالَ: " لَيْسَ لَكَ إِلَّا ذَلِكَ "، قَالَ: فَانْطَلَقَ بِهِ لِيُحَلِّفَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ: " أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالٍ لِيَأْخُذَهُ ظُلْمًا فَلَيَلْقَيَّنَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ ". هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي، وَكَذَلِكَ وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ مُسْلِمٍ: عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَزُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ وَرَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْكَجِّيُّ وَغَيْرُهُمْ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، فَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ: " لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ: " لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ " وَهَذَا لَا يَنْفِي الْحُكْمَ بِالْعِلْمِ، وَإِنَّمَا يَنْفِي أَنْ يَكُونَ لَهُ مِنْ جِهَةِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ شَيْءٌ غَيْرُ الْيَمِينِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
علقمہ بن وائل اپنے والد (وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرموت سے اور دوسرا کندہ سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، حضرمی کہنے لگا: اس نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے جو میرے باپ کی تھی۔ کندی نے کہا: یہ زمین میری ہے، میں اس میں کھیتی باڑی کرتا ہوں، اس کا (اس میں) کوئی حق نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرمی سے پوچھا: ”کیا تیرے پاس کوئی دلیل ہے؟“ اس نے عرض کی: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(تو پھر) تیرے ذمے اس کی قسم ہے“، تو حضرمی کہنے لگا: اے اللہ کے نبی ﷺ! اسے قسم اٹھانے سے کوئی چیز مانع نہیں (وہ تو جھوٹی قسم کھا لے گا)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے صرف اس کی قسم ہی ہے“، تو وہ (کندی) قسم اٹھانے کے لیے آگے بڑھا۔ جب وہ واپس مڑا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص قسم کے ذریعے کسی کا مال ہڑپ کر لے، تو وہ جب قیامت کے دن اللہ سے ملاقات کرے گا تو اللہ اس سے اعراض کرنے والا ہوگا۔“
(ب) ابو ولید کی حدیث میں ہے کہ: ”تیرے لیے صرف یہی ہے۔“
(ج) ابوالاحوص کی حدیث میں بھی اسی طرح ہے۔
(ب) ابو ولید کی حدیث میں ہے کہ: ”تیرے لیے صرف یہی ہے۔“
(ج) ابوالاحوص کی حدیث میں بھی اسی طرح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ⦗٢٤٣⦘ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَوْ وَجَدْتَ رَجُلًا عَلَى حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ لَمْ أَحُدَّهُ أَنَا، وَلَمْ أَدْعُ لَهُ أَحَدًا حَتَّى يَكُونَ مَعِي غَيْرِي ".
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں کسی آدمی کو اللہ کی حدود میں سے کسی حد میں پا لوں، نہ تو میں اس پر حد لگاؤں گا نہ ہی چھوڑوں گا جب تک میرے ساتھ کوئی اور نہ ہو۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: " أَرَأَيْتَ لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا قَتَلَ أَوْ سَرَقَ أَوْ زَنَى؟ "، قَالَ: أَرَى شَهَادَتَكَ شَهَادَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: " أَصَبْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اگر میں کسی کو دیکھوں کہ اس نے قتل یا چوری یا زنا کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: آپ کی گواہی عام مسلمانوں کی طرح ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نے درست کہا۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا أَكُونُ أَنَا أَوَّلَ الْأَرْبَعَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
جعفر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں ابتدائی چار میں سے نہ ہوں۔“
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي ابْنُ شُبْرُمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ عَنْ رَجُلٍ كَانَتْ عِنْدَهُ شَهَادَةٌ، فَجُعِلَ قَاضِيًا؟ فَقَالَ: أُتِيَ شُرَيْحٌ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: " ائْتِ الْأَمِيرَ وَأَنَا أَشْهَدُ لَكَ " وَهَذِهِ الْآثَارُ مُنْقَطِعَةٌ غَيْرَ أَثَرِ شُرَيْحٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شبرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شعبی رحمہ اللہ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا جو گواہ تھا، اسے قاضی بنا دیا گیا۔ قاضی شریح رحمہ اللہ کو لایا گیا تو وہ اس کے بارے میں کہنے لگے: امیر کو لاؤ، میں گواہی دے دوں گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ شُرَيْحٌ: " الْقَضَاءُ جَمْرٌ، فَارْفَعِ الْجَمْرَ عَنْكَ بِعُودَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ نے کہا: ”قضا ایک کوئلہ ہے، اس کو دو لکڑیوں کے ذریعے اپنے سے دور ہٹاؤ۔“