السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من قال: ليس للقاضي أن يقضي بعلمه باب: جس نے کہا کہ قاضی کے لیے اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20502
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلِيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيَ نَحْوَ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَهَذَا فِيمَا لَمْ يَقَعْ لَهُ بِهِ عِلْمٌ مِنْ قَبْلُ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں بھی انسان ہوں، تم اپنے جھگڑے لے کر میرے پاس آتے ہو، لیکن بعض اپنے دلائل کے اعتبار سے دوسرے پر غلبہ پا لیتا ہے، میں سماعت کے مطابق فیصلہ کر دیتا ہوں۔ کسی کے حق کا فیصلہ میں کر دوں تو وہ اسے وصول نہ کرے، بلکہ سمجھے کہ میں اس کو جہنم کا ایک ٹکڑا دے رہا ہوں۔“