السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من قال: ليس للقاضي أن يقضي بعلمه باب: جس نے کہا کہ قاضی کے لیے اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20503
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي، ح، وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، وَأُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَبَةَ خِصَامٍ عِنْدَ بَابِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ، وَلَعَلَّ بَعْضَهُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيَ لَهُ بِذَلِكَ، وَأَحْسِبَ أَنَّهُ صَادِقٌ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ، فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ لِيَدَعْهَا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے دروازے کے سامنے جھگڑا کرنے والوں کی آوازیں سنیں، آپ ﷺ ان کی طرف نکلے اور فرمایا: ”میں انسان ہوں، میرے پاس جھگڑا لے کر آتے ہو، شاید بعض زیادہ چرب زبان ہوں اور میں اسے سچا خیال کرتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ کر دوں، لہٰذا جس کے لیے میں فیصلہ کر دوں تو یہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے، چاہے وہ اسے وصول کر لے یا چھوڑ دے۔“