السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من قال: ليس للقاضي أن يقضي بعلمه باب: جس نے کہا کہ قاضی کے لیے اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20505
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ⦗٢٤٣⦘ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَوْ وَجَدْتَ رَجُلًا عَلَى حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ لَمْ أَحُدَّهُ أَنَا، وَلَمْ أَدْعُ لَهُ أَحَدًا حَتَّى يَكُونَ مَعِي غَيْرِي ".حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں کسی آدمی کو اللہ کی حدود میں سے کسی حد میں پا لوں، نہ تو میں اس پر حد لگاؤں گا نہ ہی چھوڑوں گا جب تک میرے ساتھ کوئی اور نہ ہو۔