❮
❯
حدیث نمبر: 20508
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي ابْنُ شُبْرُمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ عَنْ رَجُلٍ كَانَتْ عِنْدَهُ شَهَادَةٌ، فَجُعِلَ قَاضِيًا؟ فَقَالَ: أُتِيَ شُرَيْحٌ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: " ائْتِ الْأَمِيرَ وَأَنَا أَشْهَدُ لَكَ " وَهَذِهِ الْآثَارُ مُنْقَطِعَةٌ غَيْرَ أَثَرِ شُرَيْحٍ.
حافظ ثناء اللہ

ابن شبرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شعبی رحمہ اللہ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا جو گواہ تھا، اسے قاضی بنا دیا گیا۔ قاضی شریح رحمہ اللہ کو لایا گیا تو وہ اس کے بارے میں کہنے لگے: امیر کے پاس جاؤ، میں تمہارے حق میں گواہی دوں گا۔
یہ آثار منقطع ہیں، سوائے شریح کے اثر کے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20508
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»