السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من قال: ليس للقاضي أن يقضي بعلمه باب: جس نے کہا کہ قاضی کے لیے اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20506
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: " أَرَأَيْتَ لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا قَتَلَ أَوْ سَرَقَ أَوْ زَنَى؟ "، قَالَ: أَرَى شَهَادَتَكَ شَهَادَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: " أَصَبْتَ ".حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اگر میں کسی کو دیکھوں کہ اس نے قتل یا چوری یا زنا کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: آپ کی گواہی عام مسلمانوں کی طرح ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نے درست کہا۔