کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مسلمان اہل ذمہ کے پھلوں اور ان کے مالوں میں سے ان کی اجازت کے بغیر کچھ نہ لیں جب وہ اپنے ذمے کے واجبات ادا کر دیں، اور ان پر ظلم کرنے اور انہیں قتل کرنے پر جو سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ان کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، أنبأ أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَكِيمَ بْنَ عُمَيْرٍ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: نَزَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ وَمَعَهُ مَنْ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَكَانَ صَاحِبُ خَيْبَرَ رَجُلًا مَارِدًا مُنْكَرًا، فَأَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَلَكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا حُمُرَنَا وَتَأْكُلُوا ثِمَارَنَا وَتَضْرِبُوا نِسَاءَنَا؟ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " يَا ابْنَ عَوْفٍ ارْكَبْ فَرَسَكَ ثُمَّ نَادِ: إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِمُؤْمِنٍ، وَأَنِ اجْتَمِعُوا لِلصَّلَاةِ ". قَالَ: فَاجْتَمَعُوا ثُمَّ صَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: " أَيَحْسَبُ أَحَدُكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ قَدْ يَظُنُّ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُحَرِّمْ شَيْئًا إِلَّا مَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ، أَلَا وَإِنِّي وَاللهِ قَدْ ⦗٣٤٤⦘ أَمَرْتُ وَوَعَظْتُ وَنَهَيْتُ عَنْ أَشْيَاءَ إِنَّهَا لَمِثْلُ الْقُرْآنِ أَوْ أَكْثَرُ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُحِلَّ لَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا بُيُوتَ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا بِإِذْنٍ وَلَا ضَرْبَ نِسَائِهِمْ وَلَا أَكْلَ ثِمَارِهِمْ إِذَا أَعْطَوْكُمُ الَّذِي عَلَيْهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عرباض بن ساریہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ خیبر میں آئے اور خیبر کا ایک شخص جو سرکش تھا اس نے کہا: اے محمد ﷺ! کیا تم ہمارے گدھوں کو ذبح کرو، ہمارے پھل کھاؤ اور ہماری عورتوں کو مارو، کیا یہ تمہارے لیے جائز ہے؟ تو نبی ﷺ غصے ہوئے اور فرمایا: ”اے ابن عوف! اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اعلان کر دو کہ جنت صرف مومن کے لیے حلال ہے اور نماز کے لیے جمع ہو جاؤ۔“ راوی کہتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم جمع ہوئے۔ آپ ﷺ نے نماز پڑھانے کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اپنے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ رب العزت نے صرف ان اشیاء کو حرام قرار دیا ہے جو قرآن میں موجود ہیں؟ اللہ کی قسم! میں نے حکم دیا اور وعظ و نصیحت کی اور کچھ اشیاء سے منع کیا اور ان کی حرمت بھی ویسے ہی ہے جیسے قرآن میں کسی چیز کی حرمت بیان کی گئی ہے یا اس سے بھی بڑھ کر، اور اللہ رب العزت نے تمہارے لیے جائز نہیں رکھا کہ تم اہل کتاب کے گھروں میں بغیر اجازت کے داخل ہو جاؤ اور ان کی عورتوں کو مارو اور ان کے باغات کے پھل کھاؤ۔ یہ جائز نہیں ہے جب وہ اپنا جزیہ ادا کرتے ہوں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18728
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبِيدٍ الصَّفَارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا وَتَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ فَيُفَادُوكُمْ بِأَمْوَالِهِمْ دُونَ أَنْفُسِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ، وَتُصَالِحُوهُمْ عَلَى صُلْحٍ فَلَا تُصِيبُوا مِنْهُمْ فَوْقَ ذَلِكَ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَكُمْ ". قَالَ الثَّقَفِيُّ: صَحِبْتُ الْجُهَنِيَّ فِي غَزَاةٍ أَوْ سَفَرٍ، وَكَانَ مِنْ أَعَفِّ النَّاسِ عَنِ الْأَعْدَاءِ. أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ.
حافظ ثناء اللہ
جہینہ قبیلے کا ایک شخص بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم ایک قوم سے قتال کرتے ہوئے غلبہ حاصل کرو گے۔ وہ تمہیں مال دے کر صلح کریں گے، لیکن اپنی جانیں اور اولاد کو الگ تھلگ رکھیں گے۔ تم بھی اس سے زائد کچھ حاصل نہ کرنا، کیونکہ یہ تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔“
شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں جہنی کے ساتھ غزوہ یا سفر میں رہا، وہ لوگوں کو دشمن سے محفوظ رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18729
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّكُمْ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا فَتَظْهَرُوا عَلَيْهِمْ فَيَتَّقُونَكُمْ بِأَمْوَالِهِمْ دُونَ أَنْفُسِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ ". قَالَ سَعِيدٌ فِي حَدِيثِهِ: فَيُصَالِحُونَكُمْ عَلَى صُلْحٍ ثُمَّ اتَّفَقَا فَلَا تُصِيبُوا مِنْهُمْ فَوْقَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكُمْ.
حافظ ثناء اللہ
جہینہ قبیلے کے ایک شخص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم کسی قوم سے قتال کرتے ہوئے غلبہ حاصل کرو تو وہ اپنا بچاؤ اپنے مالوں اور اولاد کے ذریعے کریں گے۔“
«قَالَ سَعِيدٌ فِي حَدِيثِهِ:» ”وہ تم سے صلح کریں گے،“ پھر دونوں کا اتفاق ہے کہ ”تم اس سے زائد کچھ حاصل نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے لیے نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18730
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ الْمَدَنِيُّ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ ثَلَاثِينَ مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ آبَائِهِمْ دِنْيَةً، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا مَنْ ظَلَمَ مُعَاهَدًا وَانْتَقَصَهُ وَكَلَّفَهُ فَوْقَ طَاقَتِهِ أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ فَأَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". وَأَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُصْبُعِهِ إِلَى صَدْرِهِ: " أَلَا وَمَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَهُ ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ رِيحَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ خَرِيفًا.
حافظ ثناء اللہ
تیس صحابہ رضی اللہ عنہم کے بیٹے اپنے والدین سے روایت کرتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ذمی انسان پر ظلم کیا اور عیب نکالے اور طاقت سے بڑھ کر تکلیف دی اور اس کی رضا مندی کے بغیر اس کی کوئی چیز حاصل کی، تو کل قیامت کے دن میں اس کی جانب سے جھگڑا کروں گا۔“ آپ ﷺ نے اپنے سینے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”خبردار! جس نے کسی ذمی معاہد کو قتل کیا، اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام کر دی ہے، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے پائی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18731
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْمَنِيعِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا بِغَيْرِ حَقٍّ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّهُ لَيُوجَدُ رِيحُهَا مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا ". ⦗٣٤٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ، عَنِ الْحَسَنِ، وَخَالَفَهُ مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ فَرَوَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے معاہد انسان کو ناحق قتل کیا وہ جنت کی خوشبو حاصل نہ کر سکے گا حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے پائی جاتی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18732
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ كَذَا وَكَذَا ". أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ذمی انسان کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو نہ پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو اتنی مسافت سے آتی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18733
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ ثُرْمُلَةَ الْعِجْلِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حِلِّهَا فَقَدْ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَشُمَّ رِيحَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی معاہد انسان کو ناحق قتل کر دیا تو اللہ اس پر جنت کی خوشبو سونگھنا بھی حرام کر دے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18734
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»