السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: لا يأخذ المسلمون من ثمار أهل الذمة ولا أموالهم شيئا بغير أمرهم إذا أعطوا ما عليهم، وما ورد من التشديد في ظلمهم وقتلهم باب: مسلمان اہل ذمہ کے پھلوں اور ان کے مالوں میں سے ان کی اجازت کے بغیر کچھ نہ لیں جب وہ اپنے ذمے کے واجبات ادا کر دیں، اور ان پر ظلم کرنے اور انہیں قتل کرنے پر جو سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 18729
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبِيدٍ الصَّفَارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا وَتَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ فَيُفَادُوكُمْ بِأَمْوَالِهِمْ دُونَ أَنْفُسِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ، وَتُصَالِحُوهُمْ عَلَى صُلْحٍ فَلَا تُصِيبُوا مِنْهُمْ فَوْقَ ذَلِكَ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَكُمْ ". قَالَ الثَّقَفِيُّ: صَحِبْتُ الْجُهَنِيَّ فِي غَزَاةٍ أَوْ سَفَرٍ، وَكَانَ مِنْ أَعَفِّ النَّاسِ عَنِ الْأَعْدَاءِ. أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ.حافظ ثناء اللہ
جہینہ قبیلے کا ایک شخص بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم ایک قوم سے قتال کرتے ہوئے غلبہ حاصل کرو گے۔ وہ تمہیں مال دے کر صلح کریں گے، لیکن اپنی جانیں اور اولاد کو الگ تھلگ رکھیں گے۔ تم بھی اس سے زائد کچھ حاصل نہ کرنا، کیونکہ یہ تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔“
شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں جہنی کے ساتھ غزوہ یا سفر میں رہا، وہ لوگوں کو دشمن سے محفوظ رکھتے تھے۔