حدیث نمبر: 18727
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّجَّارِ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَسْبَاطٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَهُ أَنْ يَرْفَعَ إِلَيْهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى فِي أَدِيمٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ لِأَبِي مُوسَى كَاتِبٌ نَصْرَانِيٌّ يَرْفَعُ إِلَيْهِ ذَلِكَ، فَعَجِبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وقَالَ: إِنَّ هَذَا لَحَافِظٌ، وَقَالَ: إِنَّ لَنَا كِتَابًا فِي الْمَسْجِدِ، وَكَانَ جَاءَ مِنَ الشَّامِ، فَادْعُهُ فَلْيَقْرَأْ. قَالَ أَبُو مُوسَى: إِنَّهُ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ. فَقَالَ عُمَرُ أَجُنُبٌ هُوَ؟ قَالَ: لَا، بَلْ نَصْرَانِيٌّ. قَالَ: فَانْتَهَرَنِي وَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ: أَخْرِجْهُ، وَقَرَأَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} [المائدة: ٥١]، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ چمڑے میں لکھی ہوئی تحریر لے کر آئیں اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا کاتب عیسائی تھا جو ان کے پاس لے کر آیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تعجب کیا تو سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ اس کا حافظ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مسجد میں ایک خط موجود ہے جو شام سے آیا ہے، اس کو بلاؤ یہ پڑھے۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ مسجد میں داخل نہیں ہو سکتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا وہ جنبی ہے؟ تو سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے: نہیں بلکہ وہ عیسائی ہے۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا اور میری ران پر مارا اور کہا: اس کو نکال دو اور اس آیت کی تلاوت کی ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ [سورة المائدة: 51] ”اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور جس نے تم میں سے ان سے دوستی کی وہ انہی میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتے۔“