کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جزیہ وصول کرنے میں سختی کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18735
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَجَدَ رَجُلًا وَهُوَ عَلَى حِمْصَ يُشَمِّسُ نَاسًا مِنَ الْقِبْطِ فِي أَدَاءِ الْجِزْيَةِ فَقَالَ: مَا هَذَا؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جزیہ کی وصولی میں قبطی شخص کو دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا۔ انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتا ہے، اللہ اس کو عذاب دے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18735
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم ٢٦١٣»
حدیث نمبر: 18736
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا جَعْفَرٌ الْأَحْمَرُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى بَزْرَجِ سَابُورَ فَقَالَ: لَا تَضْرِبَنَّ رَجُلًا سَوْطًا فِي جِبَايَةِ دِرْهَمٍ، وَلَا تَبِيعَنَّ لَهُمْ رِزْقًا وَلَا كِسْوَةَ شِتَاءٍ وَلَا صَيْفٍ، ⦗٣٤٦⦘ وَلَا دَابَّةً يَعْتَمِلُونَ عَلَيْهَا، وَلَا تُقِمْ رَجُلًا قَائِمًا فِي طَلَبِ دِرْهَمٍ. قَالَ: قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذًا أَرْجِعَ إِلَيْكَ كَمَا ذَهَبْتُ مِنْ عِنْدِكَ. قَالَ: وَإِنْ رَجَعْتَ كَمَا ذَهَبْتَ وَيْحَكَ إِنَّمَا أُمِرْنَا أَنْ نَأْخُذَ مِنْهُمُ الْعَفْوَ، يَعْنِي الْفَضْلَ.
حافظ ثناء اللہ
ثقیف کے ایک شخص سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے بزرج سابور پر عامل مقرر کیا اور فرمایا: درہم کی وصولی میں کسی شخص کو کوڑے سے مت مارنا، ان کا رزق اور گرمی و سردی کا لباس فروخت نہ کرنا اور نہ ہی وہ جانور جس پر وہ کام کاج کرتے ہوں اور کسی شخص کو درہم کی وصولی کے لیے (سختی سے) کھڑا نہ کرنا۔ راوی کہتے ہیں: اے امیر المؤمنین! تب تو میں ویسے ہی واپس آؤں گا جیسے آپ کے پاس سے جا رہا ہوں۔ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو اسی حالت میں واپس آئے تو تجھ پر افسوس ہے، ہمیں تو ان سے زائد مال لینے کا حکم دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18736
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 18737
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ سَأَلَهُ مَا فِي أَمْوَالِ أَهْلِ الذِّمَّةِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " الْعَفْوُ " يَعْنِي الْفَضْلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ذمی لوگوں کے مالوں کے بارے میں پوچھا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”زائد مال۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18737
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»