السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: لا يأخذ المسلمون من ثمار أهل الذمة ولا أموالهم شيئا بغير أمرهم إذا أعطوا ما عليهم، وما ورد من التشديد في ظلمهم وقتلهم باب: مسلمان اہل ذمہ کے پھلوں اور ان کے مالوں میں سے ان کی اجازت کے بغیر کچھ نہ لیں جب وہ اپنے ذمے کے واجبات ادا کر دیں، اور ان پر ظلم کرنے اور انہیں قتل کرنے پر جو سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 18730
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّكُمْ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا فَتَظْهَرُوا عَلَيْهِمْ فَيَتَّقُونَكُمْ بِأَمْوَالِهِمْ دُونَ أَنْفُسِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ ". قَالَ سَعِيدٌ فِي حَدِيثِهِ: فَيُصَالِحُونَكُمْ عَلَى صُلْحٍ ثُمَّ اتَّفَقَا فَلَا تُصِيبُوا مِنْهُمْ فَوْقَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكُمْ.حافظ ثناء اللہ
جہینہ قبیلے کے ایک شخص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم کسی قوم سے قتال کرتے ہوئے غلبہ حاصل کرو تو وہ اپنا بچاؤ اپنے مالوں اور اولاد کے ذریعے کریں گے۔“
«قَالَ سَعِيدٌ فِي حَدِيثِهِ:» ”وہ تم سے صلح کریں گے،“ پھر دونوں کا اتفاق ہے کہ ”تم اس سے زائد کچھ حاصل نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے لیے نہیں ہے۔“