السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: لا يأخذ المسلمون من ثمار أهل الذمة ولا أموالهم شيئا بغير أمرهم إذا أعطوا ما عليهم، وما ورد من التشديد في ظلمهم وقتلهم باب: مسلمان اہل ذمہ کے پھلوں اور ان کے مالوں میں سے ان کی اجازت کے بغیر کچھ نہ لیں جب وہ اپنے ذمے کے واجبات ادا کر دیں، اور ان پر ظلم کرنے اور انہیں قتل کرنے پر جو سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 18731
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ الْمَدَنِيُّ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ ثَلَاثِينَ مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ آبَائِهِمْ دِنْيَةً، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا مَنْ ظَلَمَ مُعَاهَدًا وَانْتَقَصَهُ وَكَلَّفَهُ فَوْقَ طَاقَتِهِ أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ فَأَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". وَأَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُصْبُعِهِ إِلَى صَدْرِهِ: " أَلَا وَمَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَهُ ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ رِيحَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ خَرِيفًا.حافظ ثناء اللہ
تیس صحابہ رضی اللہ عنہم کے بیٹے اپنے والدین سے روایت کرتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ذمی انسان پر ظلم کیا اور عیب نکالے اور طاقت سے بڑھ کر تکلیف دی اور اس کی رضا مندی کے بغیر اس کی کوئی چیز حاصل کی، تو کل قیامت کے دن میں اس کی جانب سے جھگڑا کروں گا۔“ آپ ﷺ نے اپنے سینے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”خبردار! جس نے کسی ذمی معاہد کو قتل کیا، اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام کر دی ہے، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے پائی جاتی ہے۔“