حدیث نمبر: 18728
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، أنبأ أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَكِيمَ بْنَ عُمَيْرٍ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: نَزَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ وَمَعَهُ مَنْ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَكَانَ صَاحِبُ خَيْبَرَ رَجُلًا مَارِدًا مُنْكَرًا، فَأَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَلَكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا حُمُرَنَا وَتَأْكُلُوا ثِمَارَنَا وَتَضْرِبُوا نِسَاءَنَا؟ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " يَا ابْنَ عَوْفٍ ارْكَبْ فَرَسَكَ ثُمَّ نَادِ: إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِمُؤْمِنٍ، وَأَنِ اجْتَمِعُوا لِلصَّلَاةِ ". قَالَ: فَاجْتَمَعُوا ثُمَّ صَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: " أَيَحْسَبُ أَحَدُكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ قَدْ يَظُنُّ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُحَرِّمْ شَيْئًا إِلَّا مَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ، أَلَا وَإِنِّي وَاللهِ قَدْ ⦗٣٤٤⦘ أَمَرْتُ وَوَعَظْتُ وَنَهَيْتُ عَنْ أَشْيَاءَ إِنَّهَا لَمِثْلُ الْقُرْآنِ أَوْ أَكْثَرُ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُحِلَّ لَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا بُيُوتَ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا بِإِذْنٍ وَلَا ضَرْبَ نِسَائِهِمْ وَلَا أَكْلَ ثِمَارِهِمْ إِذَا أَعْطَوْكُمُ الَّذِي عَلَيْهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ

عرباض بن ساریہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ خیبر میں آئے اور خیبر کا ایک شخص جو سرکش تھا اس نے کہا: اے محمد ﷺ! کیا تم ہمارے گدھوں کو ذبح کرو، ہمارے پھل کھاؤ اور ہماری عورتوں کو مارو، کیا یہ تمہارے لیے جائز ہے؟ تو نبی ﷺ غصے ہوئے اور فرمایا: ”اے ابن عوف! اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اعلان کر دو کہ جنت صرف مومن کے لیے حلال ہے اور نماز کے لیے جمع ہو جاؤ۔“ راوی کہتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم جمع ہوئے۔ آپ ﷺ نے نماز پڑھانے کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اپنے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ رب العزت نے صرف ان اشیاء کو حرام قرار دیا ہے جو قرآن میں موجود ہیں؟ اللہ کی قسم! میں نے حکم دیا اور وعظ و نصیحت کی اور کچھ اشیاء سے منع کیا اور ان کی حرمت بھی ویسے ہی ہے جیسے قرآن میں کسی چیز کی حرمت بیان کی گئی ہے یا اس سے بھی بڑھ کر، اور اللہ رب العزت نے تمہارے لیے جائز نہیں رکھا کہ تم اہل کتاب کے گھروں میں بغیر اجازت کے داخل ہو جاؤ اور ان کی عورتوں کو مارو اور ان کے باغات کے پھل کھاؤ۔ یہ جائز نہیں ہے جب وہ اپنا جزیہ ادا کرتے ہوں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18728
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»