کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ذمی کے اسلام لانے پر اس سے جزیہ معاف ہو جائے گا اور اگر وہ تجارت کے لیے مختلف علاقوں میں جائے تو اس کے مال پر عشر (دسواں حصہ) نہیں لگایا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُوبٍ الدَّهَّانُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، ثنا أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ عَلَى مُؤْمِنٍ جِزْيَةٌ، وَلَا يَجْتَمِعُ قِبْلَتَانِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”مومن پر جزیہ نہیں اور جزیرہ عرب میں دو قبلے جمع نہیں ہو سکتے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ السَّرِيِّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ حَرْبِ بْنِ هِلَالٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي أُمِّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، وَلَيْسَتْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَفِي رِوَايَةِ جَرِيرٍ قَالَ: عَنْ حَرْبِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي أُمِّهِ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ، إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى ".
حافظ ثناء اللہ
حرب بن عبداللہ اپنے نانا سے اور وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عشر یہود و نصاریٰ پر ہے اور مسلمانوں پر عشر نہیں ہے۔“ (ب) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ”عشر یعنی دسواں حصہ مسلمانوں کے ذمہ نہیں ہے بلکہ یہ یہود و نصاریٰ پر ہے۔“
وَرَوَاهُ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَيْرٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ جَدِّهِ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ، وَعَلَّمَنِي الْإِسْلَامَ، وَعَلَّمَنِي كَيْفَ آخُذُ الصَّدَقَةَ مِنْ قَوْمِي مِمَّنْ أَسْلَمَ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كُلُّ مَا ⦗٣٣٥⦘ عَلَّمْتَنِي قَدْ حَفِظْتُ، إِلَّا الصَّدَقَةَ أَفَأَعْشُرُهُمْ؟ قَالَ: " لَا، إِنَّمَا الْعُشْرُ عَلَى النَّصَارَى وَالْيَهُودِ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ فَذَكَرَهُ..
حافظ ثناء اللہ
حرب بن عبید اللہ بن عمیر ثقفی اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں (جو) بنو تغلب سے تھے کہ میں نے نبی ﷺ کے پاس آ کر اسلام قبول کر لیا، آپ ﷺ نے مجھے اسلام کی تعلیم دی اور مسلمانوں سے صدقہ لینے کا طریقہ بتایا، پھر میں آپ ﷺ کے پاس واپس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! جو آپ نے تعلیم دی مجھے یاد ہے، سوائے صدقہ کے کہ کیا میں ان سے دسواں حصہ وصول کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، دسواں حصہ صرف یہود و نصاریٰ پر ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ، حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: خَرَاجٌ مَكَانَ الْعُشُورِ، وَرَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَرْبٍ، عَنْ خَالٍ لَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
حرب بن عبید اللہ نبی ﷺ سے ابو احوص کی حدیث کے ہم معنی نقل فرماتے ہیں، انہوں نے عشر کی بجائے لفظ خراج بولا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ خَالِهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَعْشُرُ قَوْمِي؟ قَالَ: " إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى ". وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَخْوَالِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء، بکر بن وائل کے ایک شخص سے، جو اپنے ماموں رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی قوم سے دسواں حصہ وصول کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دسواں حصہ تو صرف یہود و نصاریٰ سے ہی وصول کیا جاتا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ نُصَيْرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَمِدَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ، إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى ". قَالَ الْعَبَّاسُ: هَكَذَا قَالَ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ: عَنْ أَبِي حَمِدَةَ. قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ نُصَيْرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي حَمِدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَقَالَ أَبُو حَمْزَةَ: عَنْ عَطَاءِ بْنِ الْحَارِثِ الثَّقَفِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، وَكَانَ مِمَّنْ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ تَعْشِيرَ أَمْوَالِهِمْ إِذَا اخْتَلَفُوا بِالتِّجَارَةِ، فَإِذَا أَسْلَمُوا رُفِعَ ذَلِكَ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
حرب بن عبید اللہ اپنے والد سے اور وہ ابو حمدہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمانوں پر عشر نہیں، عشر صرف یہود و نصاریٰ پر ہے۔“
(ب) عطاء بن حارث ثقفی فرماتے ہیں کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی، اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جو وفد کی صورت میں نبی ﷺ کے پاس آئے تھے۔
یہ روایت اگر صحیح ہو تو اس سے مراد، واللہ اعلم، ان کے مالوں سے دسواں حصہ لینا ہے جب وہ تجارت کے لیے آمد و رفت کریں، اور جب وہ اسلام قبول کر لیں تو یہ ان سے ختم کر دیا جاتا ہے۔
(ب) عطاء بن حارث ثقفی فرماتے ہیں کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی، اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جو وفد کی صورت میں نبی ﷺ کے پاس آئے تھے۔
یہ روایت اگر صحیح ہو تو اس سے مراد، واللہ اعلم، ان کے مالوں سے دسواں حصہ لینا ہے جب وہ تجارت کے لیے آمد و رفت کریں، اور جب وہ اسلام قبول کر لیں تو یہ ان سے ختم کر دیا جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: ثنا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ، حَدَّثَنِي مَسْرُوقٌ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الشُّعُوبِ أَسْلَمَ فَكَانَتْ تُؤْخَذُ مِنْهُ الْجِزْيَةُ، ⦗٣٣٦⦘ فَأَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ، فَكَتَبَ: أَنْ لَا يُؤْخَذَ مِنْهُ الْجِزْيَةُ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الشُّعُوبُ الْعَجَمُ هَهُنَا.
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عجمی ایمان لایا جس سے جزیہ لیا جاتا تھا، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لکھ دیا کہ اس سے جزیہ نہ لیا جائے۔