السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: الذمي يسلم فيرفع عنه الجزية ولا يعشر ماله إذا اختلف بالتجارة باب: ذمی کے اسلام لانے پر اس سے جزیہ معاف ہو جائے گا اور اگر وہ تجارت کے لیے مختلف علاقوں میں جائے تو اس کے مال پر عشر (دسواں حصہ) نہیں لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18708
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: ثنا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ، حَدَّثَنِي مَسْرُوقٌ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الشُّعُوبِ أَسْلَمَ فَكَانَتْ تُؤْخَذُ مِنْهُ الْجِزْيَةُ، ⦗٣٣٦⦘ فَأَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ، فَكَتَبَ: أَنْ لَا يُؤْخَذَ مِنْهُ الْجِزْيَةُ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الشُّعُوبُ الْعَجَمُ هَهُنَا.حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عجمی ایمان لایا جس سے جزیہ لیا جاتا تھا، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لکھ دیا کہ اس سے جزیہ نہ لیا جائے۔