السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: الذمي يسلم فيرفع عنه الجزية ولا يعشر ماله إذا اختلف بالتجارة باب: ذمی کے اسلام لانے پر اس سے جزیہ معاف ہو جائے گا اور اگر وہ تجارت کے لیے مختلف علاقوں میں جائے تو اس کے مال پر عشر (دسواں حصہ) نہیں لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18702
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُوبٍ الدَّهَّانُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، ثنا أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ عَلَى مُؤْمِنٍ جِزْيَةٌ، وَلَا يَجْتَمِعُ قِبْلَتَانِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”مومن پر جزیہ نہیں اور جزیرہ عرب میں دو قبیلے جمع نہیں ہو سکتے۔“