السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: الذمي يسلم فيرفع عنه الجزية ولا يعشر ماله إذا اختلف بالتجارة باب: ذمی کے اسلام لانے پر اس سے جزیہ معاف ہو جائے گا اور اگر وہ تجارت کے لیے مختلف علاقوں میں جائے تو اس کے مال پر عشر (دسواں حصہ) نہیں لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18707
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ نُصَيْرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَمِدَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ، إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى ". قَالَ الْعَبَّاسُ: هَكَذَا قَالَ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ: عَنْ أَبِي حَمِدَةَ. قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ نُصَيْرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي حَمِدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَقَالَ أَبُو حَمْزَةَ: عَنْ عَطَاءِ بْنِ الْحَارِثِ الثَّقَفِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، وَكَانَ مِمَّنْ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ تَعْشِيرَ أَمْوَالِهِمْ إِذَا اخْتَلَفُوا بِالتِّجَارَةِ، فَإِذَا أَسْلَمُوا رُفِعَ ذَلِكَ عَنْهُمْ.حافظ ثناء اللہ
حرب بن عبید اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمانوں پر عشر نہیں، عشر صرف یہود و نصاریٰ پر ہے۔“
(ب) حارث ثقفی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ اسے اس وفد نے خبر دی جو رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا تھا کہ ”دسواں حصہ تب ہے جب مال تجارت کی وجہ سے مختلف ہو، لیکن جب وہ اسلام قبول کر لیں تو دسواں حصہ ختم کر دیا جاتا ہے۔“