کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: 0ان شرائط کے ابواب کا مجموعہ جو امام اہل ذمہ سے طے کرے گا، اور ان کے کن کاموں سے عہد شکنی سمجھی جائے گی۔ -- باب: ان پر یہ شرط لگائی جائے گی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا ذکر صرف اسی شان سے کریں گے جس کے آپ ﷺ لائق ہیں۔
حدیث نمبر: 18709
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ، عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ، فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ، فَأَبْطَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی ﷺ کو گالی دیتی تھی اور بد زبانی کرتی تھی، ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے مار دیا تو آپ ﷺ نے اس کا خون باطل فرما دیا۔
حدیث نمبر: 18710
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْفَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: قَالَ نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ: ثنا الْمُبَارَكُ، أنبأ حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، أَنَّ عَرَفَةَ بْنَ الْحَارِثِ الْكِنْدِيَّ مَرَّ بِهِ نَصْرَانِيٌّ فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَتَنَاوَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَهُ، فَرَفَعَ عَرَفَةُ يَدَهُ فَدَقَّ أَنْفَهُ، فَرُفِعَ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ عَمْرٌو: أَعْطَيْنَاهُمُ الْعَهْدَ. فَقَالَ عَرَفَةُ: مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَكُونَ أَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى أَنْ يُظْهِرُوا شَتْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا أَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى أَنْ نُخَلِّيَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ كَنَائِسِهِمْ، يَقُولُونَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُمْ، وَأَنْ لَا نُحَمِّلَهُمْ مَا لَا يَطِيقُونَ، وَإِنْ أَرَادَهُمْ عَدُوٌّ قَاتَلْنَاهُمْ مِنْ وَرَائِهِمْ، وَنُخَلِّيَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَحْكَامِهِمْ، إِلَّا أَنْ يَأْتُوا رَاضِينَ بِأَحْكَامِنَا، فَنَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِحُكْمِ اللهِ وَحُكْمِ رَسُولِهِ، وَإِنْ غَيَّبُوا عَنَّا لَمْ نَعْرِضْ لَهُمْ فِيهَا. قَالَ عَمْرٌو: صَدَقْتَ وَكَانَ عَرَفَةُ لَهُ صُحْبَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
کعب بن علقمہ فرماتے ہیں کہ غرفہ بن حارث کندی رضی اللہ عنہ کا ایک عیسائی کے پاس سے گزر ہوا، انہوں نے اسے اسلام کی دعوت دی۔ اس نے نبی ﷺ کے بارے میں کچھ باتیں کیں تو غرفہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ناک پر تھپڑ رسید کر دیا۔ معاملہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا: ہم نے ان کو عہد دے رکھا ہے، تو غرفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی پناہ! اگرچہ وہ نبی ﷺ کو کھلم کھلا گالیاں دیں۔ صرف ہمارا ان سے عہد ہے کہ وہ اپنے معبد خانے میں رہیں، جیسے بھی عبادت کریں۔ ہم ان پر وہ بوجھ نہیں ڈالتے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے۔ اگر ان کا دشمن ہم سے ان کے ورے لڑائی کرنا چاہے تو ہم ان کو ان کے احکام کی وجہ سے چھوڑ دیں، مگر جب تک وہ ہمارے حکموں پر راضی نہ ہوں تو ہم ان کے درمیان اللہ اور رسول ﷺ کے احکام جاری کریں گے۔ اگر وہ ہم سے غائب رہیں تو ہم ان کے درپے نہ ہوں گے، تو عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے سچ کہا ہے، اور غرفہ رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔