کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: 0ان شرائط کے ابواب کا مجموعہ جو امام اہل ذمہ سے طے کرے گا، اور ان کے کن کاموں سے عہد شکنی سمجھی جائے گی۔ -- باب: ان پر یہ شرط لگائی جائے گی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا ذکر صرف اسی شان سے کریں گے جس کے آپ ﷺ لائق ہیں۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ، عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ، فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ، فَأَبْطَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی ﷺ کو گالی دیتی تھی اور بد زبانی کرتی تھی، ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے مار دیا تو آپ ﷺ نے اس کا خون باطل فرما دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18709
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْفَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: قَالَ نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ: ثنا الْمُبَارَكُ، أنبأ حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، أَنَّ عَرَفَةَ بْنَ الْحَارِثِ الْكِنْدِيَّ مَرَّ بِهِ نَصْرَانِيٌّ فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَتَنَاوَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَهُ، فَرَفَعَ عَرَفَةُ يَدَهُ فَدَقَّ أَنْفَهُ، فَرُفِعَ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ عَمْرٌو: أَعْطَيْنَاهُمُ الْعَهْدَ. فَقَالَ عَرَفَةُ: مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَكُونَ أَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى أَنْ يُظْهِرُوا شَتْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا أَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى أَنْ نُخَلِّيَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ كَنَائِسِهِمْ، يَقُولُونَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُمْ، وَأَنْ لَا نُحَمِّلَهُمْ مَا لَا يَطِيقُونَ، وَإِنْ أَرَادَهُمْ عَدُوٌّ قَاتَلْنَاهُمْ مِنْ وَرَائِهِمْ، وَنُخَلِّيَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَحْكَامِهِمْ، إِلَّا أَنْ يَأْتُوا رَاضِينَ بِأَحْكَامِنَا، فَنَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِحُكْمِ اللهِ وَحُكْمِ رَسُولِهِ، وَإِنْ غَيَّبُوا عَنَّا لَمْ نَعْرِضْ لَهُمْ فِيهَا. قَالَ عَمْرٌو: صَدَقْتَ وَكَانَ عَرَفَةُ لَهُ صُحْبَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
کعب بن علقمہ فرماتے ہیں کہ غرفہ بن حارث کندی رضی اللہ عنہ کا ایک عیسائی کے پاس سے گزر ہوا، انہوں نے اسے اسلام کی دعوت دی۔ اس نے نبی ﷺ کے بارے میں کچھ باتیں کیں تو غرفہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ناک پر تھپڑ رسید کر دیا۔ معاملہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا: ہم نے ان کو عہد دے رکھا ہے، تو غرفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی پناہ کہ ہم نے انہیں اس شرط پر عہد دیا ہو کہ وہ نبی ﷺ کو کھلم کھلا گالیاں دیں۔ ہم نے تو انہیں صرف اس بات پر عہد دیا ہے کہ ہم انہیں ان کے گرجا گھروں کے ساتھ چھوڑ دیں، ان میں جو چاہیں کہیں، اور ہم ان پر وہ بوجھ نہ ڈالیں جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے، اور اگر کوئی دشمن ان پر حملہ کرنا چاہے تو ہم ان کی طرف سے لڑیں، اور ہم انہیں ان کے اپنے احکام پر چھوڑ دیں، مگر یہ کہ وہ ہمارے احکام پر راضی ہو کر آئیں تو ہم ان کے درمیان اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے مطابق فیصلہ کریں، اور اگر وہ ہم سے الگ رہیں تو ہم ان کے درپے نہ ہوں گے۔ تو عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے سچ کہا ہے، اور غرفہ رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18710
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»