حدیث نمبر: 18704
وَرَوَاهُ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَيْرٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ جَدِّهِ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ، وَعَلَّمَنِي الْإِسْلَامَ، وَعَلَّمَنِي كَيْفَ آخُذُ الصَّدَقَةَ مِنْ قَوْمِي مِمَّنْ أَسْلَمَ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كُلُّ مَا ⦗٣٣٥⦘ عَلَّمْتَنِي قَدْ حَفِظْتُ، إِلَّا الصَّدَقَةَ أَفَأَعْشُرُهُمْ؟ قَالَ: " لَا، إِنَّمَا الْعُشْرُ عَلَى النَّصَارَى وَالْيَهُودِ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ فَذَكَرَهُ..
حافظ ثناء اللہ

حرب بن عبید اللہ بن عمیر ثقفی اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں (جو) بنو تغلب سے تھے کہ میں نے نبی ﷺ کے پاس آ کر اسلام قبول کر لیا، آپ ﷺ نے مجھے اسلام کی تعلیم دی اور مسلمانوں سے صدقہ لینے کا طریقہ بتایا، پھر میں آپ ﷺ کے پاس واپس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! جو آپ نے تعلیم دی مجھے یاد ہے، سوائے صدقہ کے کہ کیا میں ان سے دسواں حصہ وصول کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، دسواں حصہ صرف یہود و نصاریٰ پر ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجزية / حدیث: 18704
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جدًا
تخریج حدیث «ضعيف جدًا»