السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: الذمي يسلم فيرفع عنه الجزية ولا يعشر ماله إذا اختلف بالتجارة باب: ذمی کے اسلام لانے پر اس سے جزیہ معاف ہو جائے گا اور اگر وہ تجارت کے لیے مختلف علاقوں میں جائے تو اس کے مال پر عشر (دسواں حصہ) نہیں لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18704
وَرَوَاهُ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَيْرٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ جَدِّهِ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ، وَعَلَّمَنِي الْإِسْلَامَ، وَعَلَّمَنِي كَيْفَ آخُذُ الصَّدَقَةَ مِنْ قَوْمِي مِمَّنْ أَسْلَمَ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كُلُّ مَا ⦗٣٣٥⦘ عَلَّمْتَنِي قَدْ حَفِظْتُ، إِلَّا الصَّدَقَةَ أَفَأَعْشُرُهُمْ؟ قَالَ: " لَا، إِنَّمَا الْعُشْرُ عَلَى النَّصَارَى وَالْيَهُودِ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ فَذَكَرَهُ..حافظ ثناء اللہ
حرب بن عبید اللہ بن عمیر ثقفی اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں (جو) بنو تغلب سے تھے کہ میں نے نبی ﷺ کے پاس آ کر اسلام قبول کر لیا، آپ ﷺ نے مجھے اسلام کی تعلیم دی اور مسلمانوں سے صدقہ لینے کا طریقہ بتایا، پھر میں آپ ﷺ کے پاس واپس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! جو آپ نے تعلیم دی مجھے یاد ہے، سوائے صدقہ کے کہ کیا میں ان سے دسواں حصہ وصول کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، دسواں حصہ صرف یہود و نصاریٰ پر ہے۔“