السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجزية— جزیہ کا بیان
باب: الذمي يسلم فيرفع عنه الجزية ولا يعشر ماله إذا اختلف بالتجارة باب: ذمی کے اسلام لانے پر اس سے جزیہ معاف ہو جائے گا اور اگر وہ تجارت کے لیے مختلف علاقوں میں جائے تو اس کے مال پر عشر (دسواں حصہ) نہیں لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18706
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ خَالِهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَعْشُرُ قَوْمِي؟ قَالَ: " إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى ". وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَخْوَالِهِ.حافظ ثناء اللہ
عطاء، بکر بن وائل کے ایک شخص سے، جو اپنے خالو رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی قوم سے دسواں حصہ وصول کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دسواں حصہ تو صرف یہود و نصاریٰ سے ہی وصول کیا جاتا ہے۔“