کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مجہول النسب قیدی اگر آزاد ہو جائے تو اسے اس وقت تک وارث نہیں بنایا جائے گا جب تک کہ مسلمانوں کی طرف سے اس کے نسب پر کوئی شرعی گواہی قائم نہ ہو جائے۔
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنِ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو محض ان کے دعوے کی بنیاد پر (ان کا مطالبہ) دے دیا جائے تو کچھ لوگ دوسرے لوگوں کے خون اور ان کے مالوں کا دعویٰ کر بیٹھیں گے، لیکن قسم اس پر ہے جس پر دعویٰ کیا گیا ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ لَا يُوَرِّثُ الْحَمِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کسی کو بھی قیدی کا وارث نہ بناتے تھے۔ (ایسا قیدی جس کو مختلف جگہوں پر رکھا جائے)
قَالَ: وَأنبأ يَزِيدُ، أنبأ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى شُرَيْحٍ أَنْ لَا يُوَرِّثَ الْحَمِيلَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ فِي خِرْقَتِهَا.
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قاضی شریح رحمہ اللہ کو خط لکھا کہ قیدی کا وارث کسی کو دلیل کے ذریعے بنایا جائے، اگرچہ عورت اسے اپنے کپڑے میں لپیٹ کر ہی کیوں نہ لائی ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا تُوَرِّثِ الْحَمِيلَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ "..
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے خط لکھا کہ: ”آپ کسی کو قیدی کا وارث بغیر دلیل کے نہ بنائیں۔“
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبْجَرَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
قاضی شریح رحمہ اللہ سے (دوسری سند کے ساتھ) بھی اسی طرح منقول ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَشَارَ ⦗٢٢٠⦘ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَمِيلِ، فَقَالُوا فِيهِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: " مَا نَرَى أَنْ نُوَرِّثَ مَالَ اللهِ إِلَّا بِالْبَيِّنَاتِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قیدی کے بارے میں مشورہ لیا، انہوں نے اس کے بارے میں بات کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اللہ کے مال کا وارث صرف دلیل کے ذریعے بناتے ہیں۔
قَالَ: وَأنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا يُوَرَّثُ الْحَمِيلُ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ ". وَهَذِهِ الْأَسَانِيدُ عَنْ عُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ قیدی کو صرف دلیل کی بنا پر وارث بنایا جائے گا۔
سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما سے مروی یہ تمام اسانید ضعیف ہیں۔
سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما سے مروی یہ تمام اسانید ضعیف ہیں۔